Friday, 22 April 2011

!ملاوٹ خوروں کو عبرتناک سزا ملے

وسیم راشد
ملاوٹ خوری ہمارے ملک کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے۔دنیا جہاں ایڈس اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے نبرد آزما ہے وہیں ہم ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ملاوٹ خوری کے عفریت سے بھی لڑ رہے ہیں۔ آج ملک میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ملاوٹ نہ ہو۔ ہم کسی بھی چیز کی اصلیت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔دودھ، گھی ، تیل ، کھویااور آٹے وغیرہ میں تو ملاوٹ عام سی بات تھی لیکن آج انسان پھلوں اور سبزیوں میں بھی ملاوٹ کرنے سے نہیں چوک رہا ہے۔مختلف اقسام کے کیمیکل کے ذریعہ پھلوں و سبزیوں کو وقت سے پہلے کھانے لائق بنا دیا جاتا ہے۔پھلوں او رسبزیوں میں زہر کے انجکشن لگائے جا رہے ہیں۔ چند منافع خور کیسے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اس کا اندازہ آپ اخبارات و ٹیلی ویزن میں روز مرہ کی خبروں سے لگا سکتے ہیں۔ آئے دن اخبارات اس طرح کی خبروں سے بھرے پڑے رہتے ہیں ،ٹی وی چینل ہر روز کئی ایسی خبریں نشر کرتے ہیں کہ ملاوٹ کا دودھ پی کر ، شراب پا کریا روٹی کھا کر اتنے لوگ ہلاک ہو گئے۔ایک چھوٹا دوکاندار بھی پھلوں اور سبزیوں کو دیر تک تازہ رکھنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے ہی ان پر کیمیکل کا چھڑکائو کر تا ہے۔ ہم یہ سب دیکھتے ہیں اور انجان بنے رہتے ہیں۔ کوئی بھی سماج میں اصلاح کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ کسی سے بھی ہم خود ہی جھگڑا کیوں مول لیں؟ شاید ہماری حساسیت ختم ہو گئی ہے،ضمیر ہمارا سو گیا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب ان زہر آلود سبزیوں، پھلوں یا دیگر اشیائے خورد نوش کے استعمال سے ہمارا کوئی اپنا یعنی قریبی ہلاک ہوتا ہے تو ہم خوب روتے ہیں، ملاوٹ خوروں کو گالیاں دیتے ہیں، انہیں سماج کا دشمن بتاتے ہیں، لیکن یہ سب زیادہ دن تک نہیں چلتا۔ پھر وہی معمول کی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ مجرم ہم خود ہیں،ہماری غیر حساسیتسماج اور ملک کو تاریک کنویں میں دھکیل رہی ہے اور ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعہ کو کون بھول سکتا ہے۔ جب شمالی ہندوستان میں سنگھاڑے کا ملاوٹی آٹا(کٹو) کھانے سے سیکڑوں لوگ بیمار گئے۔ اس آٹے کے استعمال سے لوگوں کے ہاتھ پیر اینٹھنے لگے ، چکر آنے لگے اور پیٹ میں درد و الٹی کی شکایت ہونے لگی۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی شہروں کے اسپتالوں میں متاثرین کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔شمالی ہند کے درجنوں شہروں میں افراتفری کا عالم مچ گیا۔اس واقعہ سے اس بات کا اندازہ تو ہو گیا کہ ملاوٹ خوروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے اندر انسیانیت ہوتی ہے۔ کیونکہ کٹو کا آٹا کھانے سے بیمار ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے نوراتروں کا برت رکھا تھا اور برت چونکہ یہ لوک کٹو کے آٹے سے کھولتے ہیں اس لیے ان کا بیمار ہونا لازمی تھا۔یعنی مذہب یا عقیدت کی ملاوٹ خوروں کی نظروں میں کوئی وقعت نہیں، انہیں تو صرف اور صرف پیسہ چاہئے اس کا ذریعہ کیسا بھی ہو؟
ملاوٹ خور منافع خوری کے چکر میں ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اشیائے خوردنوش میںزہر ملا کر وہ ملک کے بچپن کو موت کی نیند سلا دینا چاہتے ہیں۔ اسے اپاہج بنا دینا چاہتے ہیںاور اس کام میں حکومت و انتظامیہ بھی ان کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ پولس کا کردار ہمیشہ اس حوالے سے مشکوک رہا ہے، وہ چند روپیوں کی خاطر کروڑوں لوگوں کی زندگی میں زہر گھولنے سے نہیں چوکتی۔افسران و حکمران بھی اس ساز باز میں نہ صرف برابرکے شریک ہیں بلکہ ملاوٹ خوروں کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ملاوٹ روکنے کے ہمار ے نظام کی ناکامی سے عام آدمی میں یہ تصورپختہ ہوتا جارہا ہے کہ ہمارا سسٹم اسے روکنے یا ختم کرنے میںیا تو ناکام ہے یا پھر دلچسپی ہی نہیں رکھتا۔یوں تو اعلیٰ سطح پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن سب کھوکھلے ،بڑی بڑی حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں مگرزمینی سطح پرکوئی دوسرا ہی کھیل چلتا رہتا ہے۔کہنے کے لئے تو پولیس چھاپہ مارکارروائی بھی کرتی ہے لیکن نہ توکسی کو سزاملتی ہے اورنہ ہی کسی دکان کا لائسنس ضبط کیا جاتا ہے۔پولس و انتظامیہ کے رول سے ایسا لگتا ہے گویا پورے نظام نے ہی ملاوٹ خوروں کو بچانے اوران کو فروغ دینے کا کمٹ منٹ کر رکھا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت ملاوٹ خوروں کے خلاف مہم بھی شروع کرتی ہے اور مہم کی کامیابی کے قصیدے بھی پڑھے جاتے ہیں لیکن نتیجہ جوں کا توں رہتاہے۔ ملاوٹ خوروں کے حوصلے پست کبھی نہیں ہوتے، انہیں کبھی یہ خوف محسوس نہیں ہوا کہ ان کا یہ کام ان کی اور اہل خانہ کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔ یہ کیسے مان لیا جائے کہ حکومت کی جانب سے کوئی مہم شروع کی جائے اوراس کی باضابطہ نگرانی بھی کی جائے اورملاوٹ خوروں کو سخت سزائیں دی جائیں اورپھر بھی ملاوٹ خوری جاری رہے ؟یہ ہرگزممکن نہیں ہے، دراصل حقیقت یہ ہے کہ ملاوٹ خور کوئی چھوٹے بنئے یا کسان نہیں بلکہ بڑے بڑے تاجر ہیں جنہیں بڑے بڑے سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے یا یوں کہیں کہ ان سیاستدانوں کا خرچہ پانی ہی ان تاجروں کے گھر سے چلتا ہے۔ملاوٹ خوری اتنا ڈھکا چھپا کام نہیں ہے، اس کام کے بارے میں سب کو معلوم ہوتا ہے۔ پولس جانتی ہے، انتظامیہ جانتی ہے، حکومت جانتی ہے اور یہاں تک کہ عام آدمی بھی جانتا ہے۔ پولس، حکومت و انتظامیہ تو پیسے کے لالچ میں کچھ نہیں کر پاتی لیکن عام آدمی واقعی مجرمانہ طور پر خاموش رہتا ہے اور اس کی خاموشی بجا بھی ہے کیونکہ سانپ کے بل میں ہاتھ وہ کیوں ڈالے؟ ملاوٹ خوروں کے پیچھے پولس ہے، انتظامیہ ہے، حکومت ہے اور سیاستداں ہیں۔ کوئی شخص اپنی جان مصیبت میں ڈال کرملاوٹ کی اطلاع دینے کے لئے آگے کیوںآئے؟یوں بھی مختلف سطحوں پربے ضابطگیوں کی اطلاع دینے والوں کی حفاظت کرنے میں حکومت اب تک ناکام ہی رہی ہے۔اکثرایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں کہ سماج کا کوئی فرداگرملاوٹ خوروں کے خلاف کسی قسم کی سرگرمی ظاہرکرتاہے تواسے اپنی جان تک گنوانی پڑجاتی ہے۔تاہم یہ بات دیگر ہے کہ کسی نہ کسی  کو تو بدعنوانی اور ملاوٹ خوری کے خلاف آواز اٹھانی ہی ہوگی اور جان کی قربانی بھی دینی ہوگی۔ اگر گاندھی بھی یہی سوچ کر بیٹھ جاتے کہ میں کیوں آزادی کی تحریک چھیڑوں، ملک میں تو کروڑوں لوگ رہتے ہیں تو شاید ملک ابھی تک آزاد نہ ہوا ہوتا۔ سوناونے کے قتل کو کون بھول سکتا ہے۔ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایماندار تھے اور انھوں نے ملاوٹ خوروں کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی، جس کی سزا انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھوکر چکانی پڑی، ملاوٹ خوروں نے سوناو نے کو زندہ جلا کر ہلاک کردیا۔ایک پولس اہلکار کو زندہ جلاکر مار دیا جاتا ہے تو پھر عام آدمی کی کیا بساط ہے۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ملاوٹ خوروں کے حوصلے کتنے بلند ہیں؟ایسی بھیانک واردات وہ تبھی انجام دے سکتے ہیں جب اعلیٰ سطح پر انہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہو۔
بہر حال ہمارا یہ کہنا ہے کہ ملاوٹ خوروں کے خلاف ملک گیر مہم چھیڑی جائے اورقصورواروں کو ایسی سخت سزا ملے کہ دوسرا کوئی آدمی ملاوٹ کے نام سے ہی کانپ اٹھے۔جیسے بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے نے آواز بلند کی اور پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ویسے ہی ملاوٹ خوری کے خلاف بھی کوئی انا ہزارے سامنے آئے اور پورا ملک اس کی حمایت کرے۔

Friday, 15 April 2011

نئی نسل کا اردو ذوق و شوق پرانی نسل کے لئے سبق ہے

وسیم راشد /waseem rashid
سیاسی مضامین لکھتے لکھتے کبھی کبھی دل گھبرانے لگتا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی دہلی آمد۔ ہند-پاک کرکٹ میچ، شنگلو کمیٹی کی حکماء اور بھنوٹ کو سرزنش۔ پاکستان کی مذہبی جماعت جمعیۃ علماء اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملہ وغیرہ اور ان سب کے دوران یہ خبر کہ ہم ہندوستانی اب ایک ارب 21 کروڑ ہوگئے ہیں اور یہ خوش خبری بھی کہ آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری اردو کتاب میلہ۔ اب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ ان سب سیاسی ہنگامہ خیز یوں میں یہ اردو کتاب میلہ کہاں سے آگیا تو ہوا یوں کہ ہم نے تو قلم اٹھایا تھا ہند-پاک کرکٹ میچ ڈپلومیسی پر لکھنے کے لیے لیکن ایک صاحب تشریف لائے جو کافی مشہور و معروف اردو والے ہیں اور اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں۔ خود کو اردو والے کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور دوسروں کو بہت ہی حقارت سے یہ کہہ کر کہ ’’ہیں نا اردو والے‘‘ اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ان کا اردو والوں سے یہ شکوہ تھا کہ یہ نہ اردو کی کتابیں خریدتے ہیں نہ اردو کے فروغ میں کچھ حصہ لیتے ہیں۔ اردو کے پروفیسرز، لیکچررز، ریڈرزسے تو وہ بہت ناراض تھے کہ یہ اتنی زیادہ تنخواہ تو لے لیتے ہیں مگر اردو کی کتابیں خریدنے میںان کے ہاتھ جیبوں تک جاتے ہی نہیں۔ خیر یہ تو ان کی رائے تھی ، لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اردو کتاب میلے پر ہی اس بار لکھا جائے، میلے کے دوران ہم بھی لگاتار وہاں حاضری لگا رہے تھے، کیوں کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کا ہمارا اپنا اسٹال لگا ہوا تھا، اس کے علاوہ ہر سال جہاں بھی یہ میلہ لگتا ہے، ایک عجیب سی کشش کے تحت ہم بھی کھنچے چلے جاتے ہوں۔ قومی اردو کونسل، مکتبہ جامعہ اور دہلی اردو اکادمی کے تعاون سے یہ میلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم کے باہر والے وسیع و عریض لان میں لگایا گیا تھا۔ قومی اردو کونسل جس طرح اردو کی ترویج و ترقی کے لیے کام کر رہی ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ تقریباً ایک سال سے کونسل کے پروگراموں میں لگاتار شرکت کر رہی ہوں اور اسکول و کالج کی سطح پر اردو زبان کے مسائل، اردو زبان کی تدریسی کتابوں کے مسائل، اردو میں کمپیوٹر کورس اور اب نوجوان صحافیوں کے لیے تربیتی کورس یہ سب وہ کام ہیں جو اردو کونسل نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کے بغیر مہم کی طرح انجام دے رہی ہے۔ بلاشبہ حمیداللہ بھٹ صاحب لائق ستائش ہیں جو بار بار اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اردو کتاب میلہ بھی اس کی ایک کڑی تھی، جو کونسل کی جانب سے ہر سال کسی نہ کسی شہر میں لگایا جاتا ہے۔ اسی طرح دہلی اردو اکادمی کو نہ جانے یہ ہلکے سے گندمی رنگ والا ہیرا اخترالواسع کی شکل میں کہاں سے مل گیا۔ ہیرے کا رنگ سفید ہوتا ہے یہ تو دیکھا ہی تھا اور سنا بھی پر یہ یاقوتی ہیرا تو بے مثال ہے۔ کس قدر کام ان کی تقرری کے بعد دہلی اردو اکادمی اردو کی ترویج و ترقی کے لیے انجام دے رہی ہے۔ وہ ایک فعال وائس چیئرمین کی موجودگی کا ہر جگہ احساس کراتے ہیں اور پھر اس اکادمی کو نوجوان فعال سکریٹری انیس اعظمی کی شکل میں مل گیا گویا معاملہ دو آتشہ ہوگیا۔ اب یہ دونوں راغب صاحب، شمیم صاحب جو کہ اکادمی کے سرگرم ارکان میں ہیں اور دوسرے اراکین کی مدد سے لگاتار بس اردو کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور مکتبہ جامعہ تو وہ ادارہ ہے جس کو ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد مجیب اور ڈاکٹر عابد حسین جیسی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ گویا یوں کہہ لیجیے کہ اس اردو میلے کو بہتر سے بہتر بنانے میں ان سبھی اداروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر مگر مگر، اب آگے اس مگر کے درد کا بھی احساس کراتے چلتے ہیں۔ جامعہ کے وسیع و عریض لان میں لگے اس میلے میں غالب انسٹی ٹیوٹ، انجمن ترقی اردو ہند، دی سنڈے انڈین، عاکف بک ڈپو، انجم بک ڈپو، الکتاب پبلی کیشنز، البلاغ پبلی کیشنز، ملی پبلی کیشنز وغیرہ کم سے کم 50 اسٹال لگے ہوئے تھے بے حد خوبصورتی سے ہر اسٹال سجایا گیا تھا، مگر سبھی اسٹالوں پر اکا دکا ہی بھیڑ نظر آرہی تھی۔ سبھی کا یہ کہنا تھا کہ دیکھنے کو تو بہت لوگ آتے ہیں، مگر خریدنے والے کم ہیں۔ ہاں ایک خوش آئند بات بھی دیکھنے کو ملی کہ نوجوان نسل اس میلے میں اردو میں کچھ مشہور کتابوں کے تراجم تلاش کرتی ہوئی نظر آئی جیسے الحسنات سے شائع مائیکل ہارٹ کی کتاب کا اردو ترجمہ سو عظیم آدمی، جے کرشنا مورتی کی کتاب کا اردو ترجمہ زندگی کی اہمیت وغیرہ کتابوں کی زیادہ مانگ تھی۔ مگر سبھی اسٹال مالکان کا یہ کہنا تھا کہ اگر صرف دہلی کے ہی سارے اردو استاد اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے کتابیں خریدنے پر آجائیں تو ہزاروں کی سیل ہوسکتی ہیں۔ خود مجھے اس بات کا تجربہ ہوا کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے اسٹال پر بھیڑ لگی رہی، سب نے اس کے کاغذ کی، طباعت کی، کلر اسکیم کی، مواد کی بے حد تعریف کی، مگر اس کی صرف اور صرف 250 روپے سالانہ ممبر شپ لینے میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔ وہی اس اخبار کو اٹھا کر دیکھتے تھے اور بے حد متاثر ہوکر داد دیتے تھے اور پھر اس کے ممبر بن جاتے تھے۔ یہ سب ہم صرف ایک تماشائی کی طرح دیکھ رہے تھے اور دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے تھے، مگر یہ سب بہت ہی خوش کن تھا۔ کالج، یونیورسٹی کے اساتذہ اور مشہور اردو ہستیوں کو تو یہ زعم تھا کہ ہم کو تو اخبار مفت میں ملنا چاہیے اور تو آپ ہمیں بھیج ہی رہے ہیں ہم پڑھ بھی رہے ہیں، یہ بھی کیا کم احسان ہے اور پھر آپ کا ادبی صفحہ ہمارے دم سے ہی چھپ رہا ہے، مگر یقین جانییہمیں ان کے ممبر نہ بننے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا نوجوان نسل کے ممبر بننے کی خوشی۔
اس اردو میلے کو کامیاب بنانے میں قومی اردو کونسل، دہلی اردو اکادمی نے جیسے جان لگادی۔ روز ہی کوئی نہ کوئی ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ ایسے ایسے ادباء اور شعراء کو بلایا گیا، جس کو دیکھنے اور سننے کے شوق میں اس میلے کی رونق بڑھ جائے۔ مشاعرہ، قوالی، شام غزل، ڈراما وغیرہ غرضیکہ ہر عمر اور ہر طرح کے شوق رکھنے والوں کے لیے دہلی اردو اکادمی نے جتنی بھی محفلیں سجائیں، وہ لائق ستائش تھیں اور اس بات کا ثبوت کہ اردو کی ترقی کے لیے اس کی آبیاری کے لیے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا، بس اس زبان کا پودا ہرا بھرارہے۔ اپنے اس اداریہ میں ہم نے بے جا کسی کی تعریف نہیں کی، کیوں کہ ہم نے جو دیکھا، محسوس کیا اور جو جذبہ نظر آیا، اس کو من و عن بیان کردیا، کیوں کہ یہی رونا رویا جاتا ہے کہ اردو کے لیے اردو والے کچھ نہیں کرتے، مگر ہم یہ کہیںگے کہ اردو والوں میں اردو اداروں کو مت جوڑیے۔ ادارے تو اپنا کام کر رہے ہیں، مگر اردو والوں میں ہم اور آپ آتے ہیں۔ اس زمرے میں ہمارا اور آپ کا ہی تعاون درکار ہے اور ہم اردو والے اس کی بدحالی کے خود ذمہ دار ہوںگے، کیوں کہ ہر سطح پر اردو کے لیے کام ہو رہا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہنا ہے کہ صرف مشاعرے اردو کی بقا کے لیے کافی نہیں ہیں۔ مشاعروں سے زبان کا زوال ہو رہا ہے۔ زبان کو اگر بچانا ہے اور اس کے لیے نسلیں تیار کرنی ہیں تو اسکول کی سطح پر جنگی پیمانے پر یہ کام کرنا ہوگا۔ اردو کتاب میلہ سال میں ایک بار نہیں ہر شہر میں کم سے کم تین چار بار لگنا چاہیے اور اس کے لیے سبھی اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اردو کے سبھی اساتذہ کو بھی اپنے اپنے اسکول و کالج کے بچوں کو میلے میں لانا چاہیے تاکہ ان میں کتابیں خریدنے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ اس میلے میں سوائے جامعہ کے اور کسی اسکول کے بچے نظر نہیں آئے۔ دہلی میں اردو میڈیم اسکول کتنے ہیں اس کی تعداد کا تو ہمیں اندازہ نہیں، مگر دہلی کے ہر علاقے میں کم سے کم 4اردو میڈیم اسکول ہیں، اس کے علاوہ دہلی کے کچھ ایسے بھی انگلش میڈیم اسکول ہیں جن میں اردو پرائمری سے سینئر سکنڈری تک پڑھائی جاتی ہے۔ ان اسکولوں میں، ہمدرد، نیوہورائزن، کریسنٹ، شفیق میموریل، ڈی پی ایس متھرا روڈ، نوئیڈا ایم اے ایف اکیڈمی، اس کے علاوہ اوکھلا میں ہی کئی اسکول ہیں، غرضیکہ اگر ان اسکولوں کے اساتذہ اپنے اسکول کی پرائمری سے سینئر سکنڈری تک کی کلاسوں کو بھی اس میلے میں وزٹ کراتے تو کوئی وقت ایسا نہ ہوتا جب اس میں بھیڑ نہ ہوتی اور اردو کتابوں کی سیل بھی بے پناہ ہوتی۔ بچے چھوٹی چھوٹی شاعری کی کتابیں ہی خریدتے یا چھوٹی چھوٹی کہانیاں، اس سے ان میں ذوق و شوق بھی پیدا ہوتا اور زبان کی اصلاح بھی ہوتی۔
ہم کو تو دو ٹوک لکھنے اور کہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے، کیوں کہ ہمارے اخبار کی پالیسی میں ہے سچ کہنا، دو ٹوک کہنا اور سکھی رہنا۔

Monday, 11 April 2011

اردو کی مٹھاس میں کڑوی سچائی کو مت چھپایئے

وسیم راشد /Waseem Rashid
پانچ ریاستوں میں الیکشن بگل بج چکا ہے اور جب سے الیکشن کا اعلان ہوا ہے ہر طرف کھلبلی مچ گئی ہے۔ کہاں کتنی سیٹیں کس پارٹی کو ملیںگی؟ کیا جوڑ توڑ ہوگا؟ مسلم ووٹ کتنے ہوںگے؟ کانگریس پارٹی کا کیا رول رہے گا؟ بی جے پی اپنا کون سا ترپ کا پتہ کھیلے گی وغیرہ۔ مگر ایسے وقت میں وکی لیکس کے انکشافات نے کانگریس کے کردار کو پھر سے مشکوک کردیا ہے۔ یوپی اے گورنمنٹ کے لیے یہ باری بہت مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ مسلسل گھوٹالوں کی سنگ باری سے بے حال ایک اور انکشاف نے تو جیسے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 2008 میں اعتماد کا ووٹ جیتنے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کو رشوت دے کر ووٹ حاصل کرنے کے الزام سے نبردآزما یوپی اے سرکار ان پانچ ریاستوں میں اور پھر اگلے پارلیمانی الیکشن میں کس حد تک عوام کا اعتماد حاصل کرے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر سچائی کو اردو اشعار کی مٹھاس میں جس طرح چھپایا جارہا ہے، وہ قابل افسوس ہے۔ ادھر سشما سوراج طنزیہ انداز میں یہ شعر پڑھتی ہیں کہ:
ادھر اُدھر کی تو نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
ہمیں رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
پہلی بات تو یہ کہ اتنا بڑا الزام اتنی بڑی بات کے لیے شعر کہہ کر اس کا وزن ہی ختم کردیا گیا۔ سیاست میں نعرہ بازی چلتی ہے، الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اپوزیشن کا کام شعر و شاعری سے ماحول کو گرمانا نہیں، بلکہ حقیقت کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا لیڈر شیر ہوتا ہے جو دن رات عام لوگوں کی تکالیف کو لے کر حکومت پر گرجتا رہتا ہے اور حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ عام لوگوں کے مفاد کو ان دیکھا نہ کرے۔ ان کے مسائل کو سلجھائے۔ یہاں تو معاملہ رقم برائے ووٹ کا تھا، یہاں تو معاملہ پوری حکومت کے بننے کا تھا۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو ہر وقت پریشان رکھنا اور جواب طلبی کے لیے تیار رکھنا ہوتا ہے۔ ایک صحت مند اور کامیاب جمہوریت کے لیے مضبوط اور ذمہ دار اپوزیشن بہت ضروری ہے۔ اگر اپوزیشن ہی کمزور ہوگی تو حکومت کو جگائے گا کون؟ اپوزیشن کا کام ایوان چلانے میں تعاون دینے سے لے کر حکومتی پالیسیوں پر سوال پوچھنے اور عام آدمی کے مفاد کے لیے حکومت کو پالیسیاں بنانے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ جمہوریت آخر حکمراں اور اپوزیشن کے بہتر تال میل اور اور امتزاج سے ہی تو چلتی ہے۔ اگر اپوزیشن ذمہ دار نہیں ہوئی تو حکمراں جماعت کے تانا شاہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ حکمراں جماعت بے لگام ہوسکتی ہے اور اپنی مرضی سے تمام فیصلے لے سکتی ہے اور منموہن حکومت میں یہی ہو رہا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن صرف احتجاج کے لیے مخالفت کرتی ہے، تب بھی جمہوریت کے بنیادی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اگر عوام کے مفاد کے لیے حکومت کوئی فیصلہ لیتی ہے تو اپوزیشن کو اس کا ساتھ بھی دینا چاہیے، حکومت کے پاس اگر کم ممبران پارلیمنٹ ہیں تو اپوزیشن جماعت کی حمایت سے ہی تو ضروری کام پورے ہوںگے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ کامیاب جمہوریت کے لیے حکمراں اور اپوزیشن دونوں کو ہی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ اب سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ کیا بی جے پی ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرپارہی ہے۔ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ یوپی اے حکومت کی تشکیل کے بعد سے آج تک پارلیمنٹ میں بی جے پی کا کردار دیکھیں تو بڑی آسانی سے اس کا جواب مل جائے گا۔ اٹل بہاری واجپئی جیسا لیڈر تو شاید اب بی جے پی کو نصیب نہ ہو، مگر اڈوانی جی نے بھی خود کو مذاق کا حصہ بننے دیا۔ جب منموہن سنگھ ان پر مسکراتے ہوئے وار کرتے ہیں کہ اڈوانی جی نے وزیراعظم بننا اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا تھا، مگر وزیراعظم میں بن گیا اور اڈوانی جی نے مجھے معاف نہیں کیا ہے اور انہیں اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ابھی مزید تین سال اور انتظار کرنا ہوگا۔تو اڈوانی جی سوائے ایک میٹھی مسکراہٹ کے اور کچھ کرتے نہیں۔
مجھے اس وکی لیکس کے ایک پرمزاح جملے میں نہ تو کوئی لطف آیا نہ ہی کوئی ہنسی آئی، بلکہ غصہ آیا۔ اڈوانی جی کی مسکراہٹ پر اور سشماسوراج کے ہنستے مسکراتے چہرے پر وزیراعظم نے تو مسکرا کر کہہ دیا اور اپنا دامن بچالیا، مگر اپوزیشن یہاں بھی ناکام رہی، کیوں کہ جب مسئلہ گمبھیر ہو اور اس پر بحث چھڑی ہو تو ہنسی مذاق اس مسئلے کی سنگینی کو ختم کردیتا ہے اور وہی ہوا۔ منموہن سنگھ نے نہایت شاطرانہ انداز میں شطرنج کی اس بساط میں اپنے گھوڑے کو ایسا الٹا چلایا کہ پوری بازی ہی الٹ دی اور خود کو بادشاہ ثابت کرتے ہوئے بری طرح مات دے دی۔ بس یہی چیز مجھے بے تحاشہ مجبور کرگئی، اس موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے، مجھے نہایت دکھ ہورہا ہے یہ لکھتے ہوئے کہ بی جے پی ایک اندھی، لولی، لنگڑی، کانی بہری اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو اٹھاتی ہے اور بڑے مسائل پر ہنسی ٹھٹھوں اور مسخرے پن سے اس مسئلے کی اہمیت اور اس کی سنگینی کو ختم کر دیتی ہے۔ پر وہی بات ہے نا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، مگر یہاں تو بی جے پی کا کردار خود مشکوک ہے۔ اس کا اپنا دامن داغدار ہے تو وہ حکومت کو کیسے گھیرے گی؟ جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے گزشتہ حکومت کا دور یاد کریں تو کمیونسٹ جماعتوں نے ہی اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا۔ کئی مسئلوں پر حکومت کو باہر سے حمایت دے رہے بایاں محاذ نے ہی گھیرا تھا۔ جب کہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اپنی ہی دنیا میں مگن تھے۔ بی جے پی کے پاس اس وقت وکی لیکس کا تازہ انکشاف اتنا اہم مسئلہ تھا کہ جس پر وہ حکومت کو گھیر سکتی تھی۔ کپل سبل کے اس بیان پر کہ یہ سب اپوزیشن نے کرایا ہے اور یہ سارا پلان اپوزیشن کا ہے  کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کتنے مضحکہ خیز بیان دیے فینانس منسٹر پرنب مکھرجی نے۔ کس قدر غیر منطقی اور غیرواضح بیان تھے کہ معمولی سی بھی سیاسی سمجھ رکھنے والے کو اس پر ہنسی آجائے۔ مگر اپوزیشن نے وزیرمالیات کے اس بیان پر بھی کہ جو خطا 14 لوک سبھا میں سرزد ہوئی، اس کے لیے 15 ویں لوک سبھا جواب دہ نہیں ہوسکتی، کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ میں ونوددوا کا لائیو پروگرام دیکھ رہی تھی، جس میں اس بیان پر ونوددوا نے کافی زبردست دلائل دیے، جس میں ایک مجھے پسند آیا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جن مجرموں کو جرم کرتے ہوئے پکڑا جائے، ان کو اگلی حکومت آنے پر چھوڑ دیا جائے، کیوں کہ یہ الزام تو پچھلی حکومت کے وقت میں لگایا گیا تھا۔ کیسا مضحکہ خیز بیان ہے۔ خدا کی قسم غصہ آجاتا ہے کہ کیا کردار ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں کا جن کو ہمارے معصوم عوام اپنے قیمتی ووٹ سے مسند شاہی پر بٹھاتے ہیں، اس لیے کہ وہ جم کر بدعنوانی کریں، جم کر عوام کا خون چوسیں اور جب یہی عوام ان سے جواب طلب کریں تو یہ ہنسی مذاق کر کے، شعر پڑھ کر اور گھٹیا دلائل دے کر اس مسئلہ ہلکا کردیں۔ ویسے بھی یہ کوئی پہلا موقع تو ہے نہیں کہ کانگریس پر اس طرح کی ارکان پارلیمنٹ کی خریداری کا الزام لگا ہو۔
جب نرسمہاراؤ جی وزیراعظم تھے تو بھی یہ الزام لگا یا گیا تھا۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ارکان پارلیمنٹ کو رقم دے کر ووٹ خریدے گئے تھے۔ وزیراعظم یہ شعر پڑھ کر:
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
سشما سوراج پر پھپھکی کس کر اڈوانی پر اقتدار کی ہوس کا الزام لگا کر اپنا دامن نہیں بچاسکتے۔ اپوزیشن پر یہ الزام لگانا کہ اسٹنگ آپریشن کر کے یوپی اے کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سراسر غلط طریقہ ہے۔ خود پر سے الزام ہٹانے کا اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا۔
پہلے ریل بجٹ آیا، پھر ملک کا عام بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہوا۔ مہنگائی بڑھتی گئی، آمدنی گھٹتی گئی۔ مگر بی جے پی نے کسی بھی مسئلہ پر حکومت کو نہیں گھیرا۔ بی جے پی دراصل ناکارہ ہوچکی ہے۔ وہ نہ حکومت کو گھیرپارہی ہے نہ خود کو مضبوط کرپارہی ہے، بلکہ ایمانداری سے پوچھئے اور مجھے تھوڑا بے باک ہونے دیجیے تو پوری کی پوری مشنری ہی فیل ہوچکی ہے۔ چوری، کالابازاری، رشوت خوری، مہنگائی، کرپشن، جرائم سب نے مل کر پورے ملک کے نظام کو کھوکھلا کردیا ہے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے میرے اس وطن عزیز کا۔

جاپانیوں کو ہمدردی کی ضرورت ہے

Waseem Rashid
جاپان کے حالیہ بحران کے حوالے سے مختلف لوگ مختلف قسم کی باتیں کہہ رہے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ جاپان چونکہ ایک ناستک ملک ہے ،جاپانیوں کے نزدیک خدا کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لیے جاپان پر یہ قیامت صغریٰ ٹوٹی ہے۔ بہت سے لوگ ایس ایم ایس کے ذریعہ یہ بات عام کر رہے ہیں کہ جاپان دنیا کا ایسا پہلا ملک ہے جہاں حجاب پر سب سے پہلے پابندی عائد کی گئی اور قرآن کی تعلیم پر پابندی بھی سب سے پہلے جاپان میں ہی لگائی گئی۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جاپان میں اس طرح کے طوفان یا سونامی کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ جاپان ایک ایسی جگہ بسا ہوا ملک ہے جہاں اس طرح کی تباہ کاریوں کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جاپان کی اس سونامی کو2012کے حوالے سے کی جانے والی پیش گوئی کا آغاز مان رہے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ2012میں دنیا ختم ہو جائے گی یعنی قیامت آجا ئے گی۔ بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں۔
ہر چند کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاپان کے لوگ اتنے محنتی اور جفاکش ہیں کہ وہ تمام طرح کی آفات کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ان آفات سے نمٹنے کے لیے ان کی تیاریاں بھی حیران کن ہوتی ہیں ،اگر کوئی دوسرا ملک جاپان کی جگہ پر ہوتا تو شاید کب کا ختم ہو گیا ہوتا؟ ہاں یہ بات دیگر ہے کہ اس بار کا زلزلہ شدید ترین تھا اور اس کے نتیجہ میں آئی سونامی بھی شدید ترین تھی۔ واضح ہو کہ جاپان میں اس بار زلزلے کی شدت رکٹر پیمانے پر 8سے9 پوائنٹ کے درمیان تھی۔8سے 9پوائنٹ کے درمیان ہم اس لیے کہہ رہے ہیںکیونکہ جاپان کی میٹرولوجیکل ایجنسی نے اس زلزلے کی شدت کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی شدت ریکٹرا سکیل پر 9 تھی اور یہ دنیا کی تاریخ کا شدت ترین زلزلہ تھا، جبکہ امریکی جیالوجیکل سروے نے اس کی شدت رکٹر پیمانے پر 8 اعشاریہ9بتائی تھی۔بحر حال زلزلہ اتنہائی شدیدتھا اور یہی وجہ ہے کہ جاپانی قوم اس زلزلے کی تباہ کاری سے اپنے آپ کو بچا نہیںپائی۔
جاپان میں سونامی کے نتیجے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ،کتنے بے گھر ہو ئے یہ بتا پانا ابھی مشکل ہے ،کیونکہ جب یہ مضمون قلم بند کیا جا رہا ہے اس وقت تک جاپانی پولیس کے مطابق زلزلے اور سونامی سے چھ ہزار چار سو پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دس ہزار دو سو لاپتہ ہیں۔ تاہم جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تو ان لوگوں کی ہے جن کے ناموں کا اندراج پولیس کے پاس ہے اور اصل تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے نیز لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ممکن ہے آگے آنے والے اعدادو شمار کافی چونکانے والے ہوں۔
تابکاری کے سبب بھی ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کا امکان ہے۔کیونکہ فوکوشیما جوہری پلانٹ میں کئی دھماکوںسے تابکاری فضا میں پھیل گئی جس کے اثرات روس تک میں بھی محسوس کئے گئے۔ یعنی جاپان پھر 1945والے موڑ پر کھڑا ہے۔ 1945کا حادثہ آپ کو یقینی طور پر یاد ہوگا اگر یاد نہیں ہے تو سنا یا اس کے بارے میں پڑھا ضرور ہوگا۔ ایسا حادثہ جس نے جاپان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی؟ جس کے اثرات آج بھی جاپان کی زمین اور انسانوں میں موجود ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کے ذریعہ جاپان پر گرائے جانے والے ایٹم بموں کی۔6اگست 1945کی منحوس صبح جاپانیوں پرایسا قہر بن کر ٹوٹی جس نے جاپان کو برسوں پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اس دن امریکی فضائیہ نے جاپان کے ہیرو شیما پرایٹم بم ’’لٹل بوائے‘‘ گرایا تھا۔ تین روز بعد پھر امریکہ نے ناگاساکی شہر پر’’فیٹ مین‘‘ ایٹم بم گرایا۔ حقوق انسانی کے علمبردار امریکہ کے اس قہر سے جاپان کے یہ دونوں شہر پوری طرح تبا ہ و برباد ہو گئے تھے۔ اندازے کے مطابق، صرف ہیرو شیما پر دھماکے کے نتیجے میں 70ہزار افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اگر کینسر اور لمبے عرصے تک بیماری کے بعد مرنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچی تھی۔ 60 فیصد افراد آگ کے شعلوں سے جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ 30 فیصد ملبہ گرنے اور 10 فیصد دیگر وجوہات سے موت کے منہ میں چلے گئے۔
ناگا ساکی کی اگر ہم بات کریں تویہ دھماکہ ہیروشیما سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور وزنی تھا اور اس سے پیدا ہونے والی تپش کا درجہ حرارت 3900 ڈگری سیلسیس یا 7ہزار ڈگری فارن ہائٹ تھا نیز اس سے پیدا ہونے والے آگ کے شعلوں کی رفتار ایک ہزار پانچکلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزارعمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھیں۔ اندازے کے مطابق اس ایٹمی حملے میں 40ہزار افراد ہلاک اور 60ہزار زخمی ہوئے تھے اور جنوری 1946 تک اندازہ لگایا گیا تھا کہ 70ہزار افراد ہلاک ہوچکے تھے۔
تودیکھا آپ نے حقوق انسانی کے علم بر دار کی تباہ کاری کا نمونہ۔ اس سب کے باوجود جاپان نے ترقی کی رفتار جاری رکھی اور موجودہ وقت میں وہ امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔آج پھر جاپان کا فوکوشیما شہر تباہ و برباد ہوا چاہتا ہے۔ آج پھر جاپان کے سامنے 1945کے حالات اپنی باہیں پھیلائے کھڑے ہیں۔تاہم جاپانی قوم کے صبرو استقلال اور امیدکی سطح اتنی بلند ہے کہ اس تک اس جیسے ہزار زلزلوں کی رسائی بھی نا ممکن ہے۔ آج بھی جاپانی قوم کے چہروں سے مسکراہٹ غائب نہیں ہوئی ہے۔وہ ہمت اور حوصلے سے کام لے رہے ہیں اور ناامیدی توجیسے انہیں چھو کر ہی نہیں گزری۔ امید ہے وہ جلد ہی اس بحران سے نجات حاصل کر لیں گے اور پھر دنیا میں اپنی ترقی کے جھنڈے گاڑیں گے۔
خیال رہے کہ شمال مشرقی علاقے میں سونامی نے جو قہر ڈھایا ہے وہاں ہر ہزار برس میں اس طرح کی قدرتی آفت آسکتی ہے، کیونکہ وہ علاقہ ایسی جگہ پر ہے جہاں چٹانیں دوسری جگہوں کے مقابلے زیادہ تیزی سے کھسکتی ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ دنیا میں تیاری کے حوالے سے جاپان سے زیادہ بہتر کوئی بھی جگہ نہیں ہے، لیکن عام طور پر آپ 7یا7.5 پوائنٹ تک کی ہی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، لیکن9 کے ا سکیل سے زیادہ پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کی ایک تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ869 میں جوگان میں جو تباہی آئی تھی اس میں سونامی کا پانی زمین کی سطح پر چار کلومیٹر اندر تک پہنچ گیا تھا اور اس سے بڑے پیمانے پر سیلاب کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔حالیہ سونامی کی لہریں دس میٹر تک اونچی تھیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ زمین پر کتنی دور تک پہنچیں لیکن اطلاعات کے مطابق شاید وہ کئی میل تک گئیں۔
جاپان چونکہ اس وقت شدید ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے اس لیے پوری دنیا کے انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلا تفریق مذہب و ملت جاپان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور بے ہودہ یا غیر انسانی تبصروں سے اجتناب کریں۔ دنیا میں سب سے بڑی چیز انسانیت ہے، اس لیے انسانیت کے ناطے انسانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ یہ قطعاً ہمیں نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم محفوظ ہیں یا ہماری تیاریاں اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ قدرت جب کسی پر قہرڈھاتی ہے تو بے حساب ڈھاتی ہے اور تمام تر تیاریاں دھری رہ جاتی ہیں۔یہ کہنا بھی اپنے آپ میں انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ جاپان میں قرآن کی تعلیم پر پابندی ہے اس لیے اللہ نے اس پر یہ عذاب بھیجا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں تو قرآن کی تعلیم پر پابندی نہیں ہے، تو پھر کیوں گزشتہ برس وہاں اتنا بڑا سیلاب آیا جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا اور ہزاروں لوگوں کو نگل گیا۔ کیا ہمیں پاکستان اور ایران کا زلزلہ بھی یاد نہیں ہے۔ یاد تو ضرور ہے لیکن ہم حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ بات قرآن کی تعلیم پر پابندی یا اس کی تعلیم دینے کی نہیں ہے بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہے۔ کیا ہم قرآنی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری سے اپنے ضمیر کی آواز سنیں تو اس کا جواب ہمیں یقینی طور پر مل جائے گا اور وہ جواب نفی میں ہی ہوگا۔ لہٰذا ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جاپانی قوم کی مدد کے لیے آگے آئیں اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں۔

Thursday, 24 March 2011

مناتے رہئے یوم خواتین اور کرتے رہئے انہیں کا دامن داغدار


waseem rashid 
وہ ہفتہ تھا یوم خواتین کا یعنی اس ہفتے میںایک دن پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن مانا جاتا ہے اور منایا جاتا ہے یعنی 9 مارچ اور 9 مارچ کو ہی کئی خبریں ایک ساتھ سامنے آئیں۔ وہ خبریں اس طرح ہیں۔

راجدھانی میں طالبہ اور ضعیفہ کا قتل یعنی یوم خواتین کے ہی دن دہلی یونیورسٹی کی طالبہ کو گولی مار کر قتل کردیا گیا اور ساتھ ہی ایک 83 سالہ بزرگ خاتون کا بھی قتل ہوگیا۔ ایک طرف ایک نوجوان لڑکی صرف اور صرف 22 سال کی، اندازہ لگانے والے بھی ظاہر ہے نوجوان لڑکی کے حساب سے ہی اندازہ لگارہے تھے، جس میں سب سے پہلا اور مضبوط اندازہ یقینا یہی تھا کہ معاملہ محبت کا ہی رہا ہوگا، لڑکی کا انکار لڑکے کی ہار۔ لڑکی کی بے وفائی لڑکے کی بدلے کی آگ وغیرہ۔ مگر دوسری طرف بھلا 85 سالہ ضعیفہ سے کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی تھی؟ یہاں تو نہ معاملہ محبت کا ہوسکتا ہے نہ ہی بے وفائی کا۔ ہاں جائیداد، خاندانی جھگڑے ہوسکتے ہیں، مگر ایک 85 سالہ ضعیفہ کو مارنا کوئی بہادری نہیں ہے۔ اس ہفتے کی دوسری خبروں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ ساگر پور میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر ہوتا ہے اور پھر اینٹ مار مار کر اسے مردہ سمجھ کرچھوڑ کر مجرم چل دیتے ہیں۔ دہلی کے جگت پوری میں ایک انجینئرنگ کالج کی پروفیسر اور طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا واقعہ، جس میں غازی آباد کے ایک انجینئرنگ کالج کی ایک پروفیسر کو انہی کے کرائے دار نے راستے میں روک لیا اور چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی۔ 17 سالہ طالبہ کو بھی ایک لڑکے نے راستے میں چھیڑا اور جب اس لڑکی نے شور مچایا تو اس پر تیزاب ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
یہاں ان سبھی خبروں کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ منارہے ہیں یوم خواتین۔ پورے ہفتہ خواتین کے اعزاز میں لاکھوں روپیہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اپنی انہی تنظیموں، اداروں، این جی اوز اور مختلف انجمنوں کو جو یوم خواتین منانے کے لیے لاکھوں روپیہ مل رہا ہے، اس کا 10 فیصد خرچ کر کے ایسی ایسی خواتین کو تلاش کیا جارہا ہے جو سماجی اور سیاسی حیثیت سے اس ایوارڈ کی حق دار ہوں اور ان پر کوئی حرف نہ آسکے کہ بھئی پیسے کا صحیح استعمال نہیں ہوا، مگر کیا 2 گھنٹے کا پروگرام کرنے، ایک دن منانے یا ایک ہفتہ منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار پیدا ہوا؟ کیا اس کا کوئی مطلب نکلا؟ سیدھی بات ہے جب تک ہم اپنے بچوں اور نئی نسل کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھائیںگے، جب تک اس کے تقدس کی حفاظت ہماری نوجوان نسل کرنا نہیں سیکھے گی، تب تک آپ کتنے ہی دن منا لیجیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنی نوجوان نسل کو عورتوں کا احترام کرانے میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنے بچوں کو عورت کا تقدس برقرار رکھنے کی کوشش میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں عورت کو بازار کی چیز نہ سمجھ کر، جسم نہ سمجھ کر، ماں بہن، بیوی، بیٹی بنانے میں اور ہماری یہ ناکامی صرف اور صرف ہماری وجہ سے ہے۔ ہم نے اس نوجوان نسل کو پوری آزادی دی۔ اچھے سے اچھے اسکولوں میں پڑھایا، ان کو انگریزی کی تعلیم دلائی، ان کو ناچ رنگ کی محفلوں میں جانے کی اجازت دی، مگر ہم نے ان کو پہلا درس یہ نہیں دیا کہ تم کو جنم دینے والی عورت بے شک صرف تمہاری ماں ہے، مگر وہ ہر گھر میں ہر سماج میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھایا۔ ہمارا معاشرہ عورت کو اب بھی وہ مقام نہیں دیتا اور صرف ہندوستان میں ہی کیا پوری دنیا میں عورتوں کی حالت خراب ہے، مگر ہم کو پہلے اپنے گھر کو دیکھنا ہے۔ اپنے ملک کو اور اپنے شہر کو دیکھنا ہے اور ہمارے شہر میں حالت یہ ہے کہ پورے ملک میں ہورہی عصمت دری میں سے ہر چوتھا معاملہ دہلی کا ہے۔ 2009 میں تقریباً 460 کے قریب عصمت دری، خواتین کے اغوا وغیرہ کے معاملات سامنے آئے اور 2010 میں 500 کے قریب زنابالجبر کے واقعات ہوئے ہیں۔ 2010 کے اعداد وشمار لیں تو تقریباً 3544 خواتین اغوا ہوئیں، جن میں دہلی کی ہی تقریباً 1389 خواتین ہیں۔ اب آجائیے دہلی پولس کے تازہ اعداد و شمار پر جس کے مطابق ہر 8 گھنٹے میں خواتین کے ساتھ زنابالجبر اور ہر 4 گھنٹے میں چھیڑ چھاڑ کا واقعہ ہوتا ہے۔ دہلی کا اتنا برا حال کیوں ہے؟ دہلی کی خواتین کیا زیادہ خوبصورت ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا زیادہ سیکسی لباس پہنتی ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا دوسرے شہروں کے مقابلے زیادہ دیر رات تک گھر لوٹتی ہیں؟ ان سب کا جواب یہ ہے کہ دہلی سے زیادہ فیشن ممبئی میں ہے، مگر وہاں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دہلی کے مقابلے کم ہیں۔ اس وقت میری خواہش یہی تھی کہ پورے اعداد و شمار دیے جاتے، مگر اعداد و شمار دے کر اپنی قابلیت یا اپنی معلومات کا اظہار کرنے سے بہتر یہی ہے کہ وجوہات کا اندازہ لگایا جائے کہ آخر دہلی ہی سب سے زیادہ اس کی زد میں کیوں ہے؟ جب کہ یہاں کی وزیراعلیٰ خود ایک خاتون ہیں۔ مگر اس بار وہ بھی خاص فکر مند نظر آرہی ہیں اور انہوں نے دہلی کے پولس کمشنر کو اس الزام پر کہ دہلی والوں کا جنس پر الگ رویہ ہے کافی سرزنش بھی کی ہے، مگر شیلا جی سے ہم ہاتھ جوڑ کر التماس کرتے ہیں کہ آپ دہلی میں ہر علاقے ہر محلہ میں موبائل وین لگائیے تاکہ پولس ہوشیار رہے۔ ہفتے اور اتوار کی رات کو رئیس گھر کی بگڑی ہوئی لڑکیاں زیادہ نکلتی ہیں۔ ایسے میں زیادہ پولس فورس اور موبائل وین کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو تو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے، مگر یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بچیوں کو قابل اعتراض لباس زیب تن کرنے سے روکیں۔ وہ لباس جس سے کہ جذبات برانگیختہ ہوں ایسے لباس سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ والدین پر اور خاص کر بھائیوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ کم سے کم اپنی بہنوں کو خود لانے لے جانے کا انتظام کریں۔ جو لڑکیاں رات کو نوکری کر کے واپس آتی ہیں، ان کی حفاظت کا جب تک بھر پور انتظام نہ ہو، ان کو ایسی جگہ نوکری نہ کرنے دیں۔ اگر بحالت مجبوری لڑکیوں کو نوکری کرنی پڑ بھی جائے تو پھر گھر والوں کو اعتماد میں لے کر۔ اگر آفس میں دیر ہوجائے تو وہیں رک جائیں۔ حالانکہ شیلادیکشت کہنے کو تو بہت ہی فکر مند دکھائی دے رہی ہیں، مگر ان کا یہ بیان کہ اگر اس شہر کی لڑکیوں اور خواتین کو محفوظ رہنا ہے تو اول تو گھر سے ہی نہ نکلیں اور اگر نکلیں تو شام ہونے سے پہلے گھر لوٹ جائیں۔ بڑا ہی مضحکہ خیز بیان ہے۔ شیلا جی سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کی تو وہی مثال ہوگئی کہ شہر کی بتیاں گل کرو راجہ جی کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ بھئی پولس کی ناکامی کی وجہ سے پورے شہر پر منحوسیت طاری کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہر لڑکی عیاشی یا اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے کے لیے نہیں نکلتی۔ بہت سے گھر ایسے بھی ہوںگے جہاں کوئی لڑکا نہیں ہوگا۔ بہت سے گھر ایسے ہوںگے جہاں مجبوراً لڑکی کو نوکری کرنی پڑرہی ہوگی۔ ایسے میں صرف اپنے سسٹم کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں صدر خاتون ہیں، ہندوستان کی راجدھانی کی وزیراعلیٰ خاتون ہیں،لوک سبھا اسپیکر خاتون ہیں، سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی چیف منسٹر خاتون ہیں، ریلوے کی وزیر خاتون ہیں۔ یوپی اے کی چیئرپرسن خاتون ہیں۔ اتنی خواتین کے ہوتے ہوئے ہندوستان اور خاص کر دہلی میں عورتوں کے جرائم کا گراف اوپر جانا شرم کی بات ہے۔
ہم لمبی چوڑی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ سنی سنائی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ ہم عملی کام کرنا اور عملی اقدامات پر عمل کرنا جانتے ہیں اور عملی قدم یہی ہے کہ پولس، انتظامیہ، حکومت، ریاستی حکومت سب کو مل کر سوچنا ہوگا۔ اگر پولس کو ہی قابل اعتماد بنا دیا جائے تو یہ بڑی جیت ہوگی، کیوں کہ سب سے زیادہ لااعتبار پولس ہی ہے۔ عوام سب پر بھروسہ کرلیتے ہیں، مگر پولس پر نہیں۔ ہمارے لیے یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ کیسے خواتین کو محفوظ رکھا جائے۔

Monday, 21 March 2011

لیبیا میں مداخلت کی فراق میں امریکہ

وسیم راشد
امریکہ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ لیبیائی باغی کرنل محمد قذافی کی فوج سے کسی بھی شکل میں جیت نہیں پائیں گے، چاہے انہیں امریکی حمایت اور اسلحہ بھی فراہم کر دیا جائے۔ امریکہ انتظار میں ہے کہ باغیوں کی طرف سے ذرا سا مدد کا اشارہ مل جائے تو انہیں امریکی کارگو ہیلی کاپٹروں اور طیارہ بردار جہازوں کے ذریعہ لیبیائی افواج کی سرکوبی کے لیے اسلحہ اور گولا بارود فراہم کر دیا جائے اور دوسری جانب لیبیائی ساحلوں کے پاس موجود امریکی تباہ کن بحری جہازوں پر سوار امریکی میرینز کو بھی لیبیا میں داخل کر دیا جائے، لیکن الشروق اور الیوم السابع سمیت کئی اخبارات و جرائد کا ماننا ہے کہ لیبیائی باغیوں نے امریکہ کی طرف سے اسلحہ اور لاجسٹک حمایت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود اس قابل ہیں کہ وہ خود لیبیا کو قذافی کے پنجے سے آزاد کرا لیں گے او ر اس میں انہیں امریکہ یا کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں ’’اینٹی وار‘‘ کے مدیر اعلیٰ جیس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر شک ہے کہ لیبیائی باغی باوجود کئی شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے اس لائق نہیںکہ سرکاری مسلح فوج کا مقابلہ کر سکیں۔باغی رہنما عبدالحفیظ غوغا کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں اور تحریک میں اتنا حوصلہ ہے کہ ان کو قذافی جیسے حاکم کو معزول کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔لیبیا سے آنے والے مظاہرین کی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین بڑی عمارتوں اور شاہراہوں پر بینرز لگا رہے ہیں، جن پر لکھا ہوا ہے کہ ہمیں غیر ملکی مدد، مداخلت یا اسلحہ کی ضرورت نہیں ہے۔ہم اپنا نظام سنبھالنا اور چلانا جانتے ہیں۔ عرب جریدے دارالحیاۃ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ابھی تک کوئی بڑا معرکہ نہیںہوا ہے، لیکن عرب اور غیر جانبدار ماہرین کا ماننا ہے کہ جب بھی باغیوں اور فوج کے درمیان مقابلہ ہوگا تو باغی فوج کے سامنے ٹک نہیں پائیں گے،کیونکہ تربیت یافتہ فوج کے آگے غیر تربیت یافتہ باغی زیادہ دیر ٹھہر نہیں پائیں گے اس بات سے امریکہ اچھی طرح واقف ہے۔امریکہ کی ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ دبائو کے باوجود مغربی ممالک نے کھل کر عالمی فوج کی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔جبکہ چین، روس، فرانس اور ترکی نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے لیبیائی سرحدوں کے اندر گھس کر ناکہ بندی اور فوجی مداخلت ناقابل عمل ہے اور اگر پھر بھی یہ مداخلت کی گئی تو نتیجہ قذافی کے حق میں امریکہ کے خلاف نکلے گا اور اس طرح پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔ اس کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے لیبیا پر پابندی اور غیر اعلانیہ سمندری ناکہ بندی کا سہارا لیا گیا ہے،تاکہ لیبیائی فوج پر نفسیاتی دبائو بنایا جا سکے۔ عرب اخبارات اور ایرانی میڈیا کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ عدم استحکام کا بنیادی سبب امریکی مداخلت اور اس کی پالیساں ہیں۔
تازہ صورتحال کے مطابق لیبیا میںعالمی فوجی مداخلت کے لیے دوست ممالک کو راضی کرنے میں ناکامی کے بعدکنیڈین اور امریکی بحری جہازوں نے لیبیائی سمندری حدود میں آکر غیر اعلانیہ ناکہ بندی کرلی ہے،لیکن اس ناکہ بندی کے باوجود سرکاری فوج باغیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔مشرقی شہریوں میں جہاں باغیوں کا زور زیادہ ہے لیبیائی فوج اور الخمیس بریگیڈ کے خلاف عوامی طور پربھرتیاں شروع ہو گئی ہیں۔تین روزہ تربیتی سیشن میںباغی عناصر لیبیائی فوج سے باغی افسران کی مدد سے اسلحہ و گولابارود چلانا اور جنگی قوانین کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس قذافی کی حکومت پلٹنے کا بہت کم وقت باقی ہے۔اس لیے امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سرکاری فوج کو نو فلائی زون کی مدد سے معطل کر دیا جائے یا باغیوں کو اسلحہ فراہم کرکے اپنے ایجنٹس لیبیائی باغیوں میں شامل کردئے جائیں لیکن امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ لیبیائی باغیوں کے اہم لیڈروں نے امریکی مدد کی پیشکش کو مسترد کردیاہے جس سے امریکہ کو دھکا لگاہے۔
عرب اخبار الشروق اور خلیج ٹائمز کا مانناہے کہ بن غازی ،البیضاء، سرسا،البریفا اور کئی شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے کاروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے دن ہندوستانی وقت کے 3.30بجے شام کو لیبیائی فوج نے سرسا البریفاکاکنٹرول حاصل کرلیاہے۔ باغی رہنمامحمدیوسف کا کہنا ہے کہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ لیبیائی فوجوں نے گھمسان کی جنگ کی لیکن مختصر سی جنگ کے بعد سرسا کا کنٹرول حاصل کرلیااور باغیوں کو مارکر بھگا دیا اب باغی سرسا سے 75کلومیٹر دور موجود دوسرے باغیوں کے گڑھ شہر اجدابیہ کی جانب رخ کررہے ہیں جہاں شکست خوردہ باغی بھاگ بھاگ کر آر ہے ہیں۔ ا جدابیہ میں موجود شکست خوردہ باغیوں کا کہنا ہے کہ زمینی دستوں کے ساتھ گنشپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیاروں کی مدد سے بہت سرعت سے آپریشن کیاگیا۔ سرکاری فوج اور الخمیس بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ کمانڈوز کا کہناہے کہ جلد ہی دوسرے شہروں میں بھی باغیوں کی سرکوبی کی جائے گی۔ سرکاری افواج کی طرف سے عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ قذافی کی حمایت میں نکل آئیں اور باغیوںکے نام بتادیں تاکہ اس کے بد لے ان کی جان بخشی کردی جائے۔ رائٹرز کے نامہ نگار اورتجزیہ نگار ماریہ گولووینا کا کہناہے کہ اب تک یہی کہاجارہا تھا کہ لیبیائی فوج کی طرف سے کوئی کامیاب کاروائی نہیں کی جارہی ہے لیکن اب سرساشہر کا کنٹرول حاصل کرنے سے ثابت ہورہاہے کہ قذافی کی فوجیں کامیابیوں سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ دوسری طرف غیرملکی نامہ نگاروں نے جو باغیوں کے اہم شہراجدابیہ میں موجود ہیں کہا ہے کہ اب سرکاری فوجوں کی طرف سے اجدابیہ کا نمبرلگنے والاہے جہاں باغیوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ غیرملکی نامہ نگاروں کامانناہے کہ باغیوں کی تعداد بھی بہت کافی ہے اور اسلحہ اور گولا بارود بھی ہے لیکن تربیت اور حوصلے کی کمی کی وجہ سے یہ ناکام ہورہے ہیں اور یہ باغی تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے چاہے انہیں کتنی ہی ٹریننگ حاصل ہوجائے۔ امریکہ اور مغربی میڈیا کی طرف سے مبالغہ آرائی کی جارہی تھی کہ اسلحہ سے لیس باغیوں کی فوج طرابلس کی طرف پیش قدمی کررہی ہے اور سرکاری فوج سے آخری معرکہ طرابلس میں ہی ہوگا۔ اس وقت لیبیا سے ملنے والی الجزیرہ، خلیج ٹائمس، العربیہ اور دوسرے اہم اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا کہناہے کہ باغیوں کی طرف سے طرابلس میں مارچ نہیں بلکہ سرکاری افواج کے ذریعے مشرقی شہروں کا محاصرہ کیاجارہاہے جہاں باغی سرکاری اسلحہ لوٹنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ CIAسے تعلق رکھنے والے ایک سابق افسر رابرٹ ایڈرسن کاکہناہے کہ مشرق وسطیٰ میںموجودہ صورت حال امریکہ کی پیدا کردہ ہے جو اس خطے میں عوامی احتجاج کی لہر کی آڑ میں تیل کے اتنے بڑے ذخائر پر ڈائریکٹ طورپر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں اور لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کی امریکی خواہش کے حوالے سے ترک جریدے ’قلت‘ کا مانناہے کہ بحرہ روم میں اس وقت تین امریکی جہاز موجود ہیں جو لیبیا کا گھیرائو کئے ہوئے ہیں۔ یہ تینوں تباہ کن بیڑے یوایس ایس انٹرپرائز، یوایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس ہیں اور ان تینوں بحری بیڑوں پر ڈھائی ہزار امریکی کمانڈوز اورمیرنیز موجود ہیں اور وہ بحری بیڑوں کے پاس کسی بھی ملک میں مارکرنے کے لئے intercontinantal ایٹمی اور روایتی وار ہیڈز سے لیس میزائیلوں کی کثیر تعداد بھی نصب ہے۔ امریکی ماہرین کا مانناہے کہ نہرسوئیز کے راستے بحر روم میں داخل ہوئے دوتباہ کن طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس کی خاصیت یہ ہے کہ سمندر میں تیرتے تیرے اچانک خشکی پر بھی آسکتے ہیں اور اسی طرح خشکی پر بھی کارروائی کرسکتے ہیں جیسے کہ سمندر میں کرتے ہیں۔
دوسری جانب کرنل قذافی اوران کے صاحبزادے نے امریکہ کے اقدامات اور لیبیاکے تعلق سے امریکی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے اورامریکہ کے رویے کو غیرذمہ دارانہ قرار دیاہے۔ اسکائی نیوزسیٹلائٹ چینل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں سیف الاسلام قذافی کا کہناہے تھا کہ امریکہ کو لیبیا کے معاشرے اور روایات اور تہذیب کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔
لیبیائی اخبارالخبر الجدید نے قذافی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ایک درجن سے زیادہ مستعفی ہونے والے اہم افسروں اور وزیروں کی جگہ نئی تقرری کررہے ہیں۔ لیبیائی اخبار الخبرالجدید کے مطابق مستعفی وزیرقانون عبدالجلیل مصطفی کی جگہ محمدالقموحسنی اور وزیرداخلہ عبدالفتاح یونس کی جگہ عبدالحفیظ مسعود کو مقررکیا گیاہے جب کہ سابق اٹارنی جنرل محمدالعریبی کی جگہ عبدالرحمن العباد کو لایاگیاہے۔

Friday, 11 March 2011

آپ کیوں بار بار پھنس جاتے ہیں سیاسی چالوں میں

وسیم راشد
میرا آج کا عنوان نہ کوئی بہت چونکا دینے والا ہے، نہ حیران کرنے والا اور نہ ہی کسی سیاسی داؤ پیچ میں الجھ کر لکھا گیا ہے۔ بس دل چاہا کہ ایک بار ضرور اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے سوال کروں کہ آخر کیوں بار بار آپ اس سیاسی شعبدے بازی کا شکار ہوجاتے ہیں، کبھی بابری مسجد کے جھگڑے میں، کبھی ہندو یا سنگھ دہشت گردی کے ہیر پھیر میں، کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کسی تنازعہ میں، کبھی فتوے، کبھی جمعیۃ علماء ہند کی آپسی رنجش کے گواہ بننے میں، کیوں آپ ان سب لغویات میں پڑ کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ ملک میں کمر توڑ مہنگائی نے امیر، غریب سبھی کو توڑ دیا ہے۔ بدعنوانی نے ایسا کالا سایہ کیا ہے کہ اب تو کتنے گھوٹالے ہوئے؟ کب ہوئے؟ کتنے کے ہوئے؟ ان کا شمار بھی کرتے کرتے دل گھبرانے لگتا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو بار بار کسی نہ کسی جھگڑے میں الجھا دیا جاتا ہے۔ مسجد النور کا قصہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی کا قصہ شروع ہوگیا اور اس قضیے نے ایسی آگ پکڑی کہ پھر سے امت انہیں خرافات میں الجھ کر رہ گئی۔ مولانا غلام محمد وستانوی گجرات میں سورت کے ایک گاؤں وستان میں پیدا ہوئے، ان کی تعلیم و تربیت بھی وہیں پر ہوئی۔ مولانا وستانوی کوئی معمولی مدرسہ سے فارغ شخص نہیں ہیں، بلکہ ایم بی اے ہیں۔ وہ بے حد کھلے دل و دماغ کے شخص ہیں، جیسا کہ ان کے بارے میں سننے میں آیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد نہ ان کی طرف داری کرنا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف جاری مہم پر اپنی رائے دینی ہے۔ ہم بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ایشیا کی سب سے بڑی دینی درس گاہ مانی جاتی ہے۔ مولانا وستانوی نے جو بھی بیان دیا ہو اور میڈیا نے اس کو کتنا ہی توڑ مروڑ کر ہی پیش کیا ہو تب بھی مولانا طیب اور مولانا مرغوب الرحمن کی مسند پر براجمان ہونے والے شخص کو ہر طرح ذمہ دار ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی طرح کی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔ کیا ہوا کیا نہیں، یہ سب اخباروں میں کئی دن سے لگاتار شائع ہو رہا ہے۔ اب بس یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح سے اس مسئلے کو لیا جائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تنازعہ کو لے کر دو گروپ ہوگئے ہیں، ایک وہ ہے جو اس بات کی شدید مخالفت کر رہا ہے کہ مولانا وستانوی کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ان سے برابر استعفیٰ کی مانگ کر رہا ہے۔ ایک طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں یہ ابوالقاسم بنارسی کو عبوری طور پر کارگزار مہتمم مقرر کرنے کے بعد ایک بڑے گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور تقریباً 36 سال سے قابض گروہ کو اپنا جاہ و جلال خطرے میں نظر آنے لگا، اسی لیے اس طرح کے حالات پیدا کردیے گئے۔ یہ بھی سننے اور پڑھنے میں آرہا ہے کہ قاسمی، غیرقاسمی، شیوخ، غیرشیوخ، گجراتی وغیرہ کی بھی جنگ چھڑ گئی ہے۔ افسوس ہوتا ہے یہ سب پڑھ کر اور سن کر۔ یہ اس نبی کی امت کے لوگ ہیں جن کو بار بار یہ کہا گیا کہ اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے۔ اس امت کے لوگ صرف اپنے فائدے کے لیے ایک بے حد مشہور و معروف اور دینی درسگاہ کے وقار کو داؤ پر لانے سے بھی نہیں چوکے۔ ایک اور شطرنج کی چال بھی لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے اور اس پر بھی کافی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ 10 جنوری 2011 کو دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں مجلس شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپ اپنے اپنے لوگوں کو اس بازی میں جتوانے میں لگے رہے۔ محمود مدنی اور ارشد مدنی کی آپسی مخالفت سے سارا ہندوستان واقف ہے، مگر اس مخالفت کو لوگ اس طرح کیش کریںگے، اس کا اندازہ خود ان دونوں کو بھی شاید نہ ہو، ہاں یہ ضرور کہا جارہا ہے کہ مولانا محمود مدنی یہ چاہتے تھے کہ مولانا ارشد مدنی اس کے مہتمم بن جائیں تاکہ محمود صاحب کے لیے جمعیۃ کا راستہ صاف ہوجائے۔ جہاں تک ہماری ناقص عقل کام کرتی ہے، ہمیں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مولانا وستانوی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی کھیل تو کھیلا جارہا ہے۔ مولانا سے بس اتنی چوک ہوئی کہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیا، لیکن تیرکمان سے نکل چکا تھا۔ اب مولانا وستانوی کتنا ہی کہتے رہیں کہ وہ مودی کے حق میں بیان نہیں دے رہے تھے اور انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ گجرات کے مسلمانوں کو اب آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ مولانا وستانوی کا اصل بیان تو اب شاید سننے کو نہ ملے، کیوں کہ اس قدر اس بیان کے پرخچے اڑائے گئے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے اخبار اتنے بیانات، لیکن ایک بات ہم ضرور کہتے ہیں کہ گجرات کا فساد ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور جس طرح مودی اس نسل کش فساد کا مجرم ہے، اسے بھی کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ مودی اگر پارس کا بھی بن کر آجائے تو مسلمان اس پر یقین نہیں کریںگے، جس طرح اس نے گجرات کے مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہایا اور خود سفید کھدر پوش بنا مسلمانوں جیسی داڑھی اور خط بنا کر بیٹھا ہے، اس سے اس کے دل کی سیاہی نہیں دھل سکتی۔ یہ مسلمانوں کے لیے حساس ایشو ہے، اس ایشو کو چھیڑتے وقت سبھی کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ 23 فروری کو ہونے والی مجلس شوریٰ کی میٹنگ میں کیا فیصلہ آئے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر مولانا وستانوی کو بھی یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ترقی پسندی اور تعلیم الگ چیز ہے اور مذہبی جذبات کا احترام الگ چیز۔ دارالعلوم دیوبند کا مہتمم ہونا الگ بات ہے اور گجرات کے مختلف اداروں کی سربراہی کرنا الگ۔ آپ جس ذمہ دار پوسٹ پر ہیں، اس کے کچھ اصول و ضوابط کو ماننا آپ کا فرض ہے۔ اس ضمن میں نگرپالیکا کے چیئرمین حسیب احمد صدیقی کا بیان بھی قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم کو ایک فل ٹائم مہتمم کی ضرورت ہے۔ ہمیں مولانا وستانوی کی قابلیت اور تعلیم پر کوئی شک نہیں ہے، مگر دیوبند کے مہتمم کو صرف اور صرف مذہبی امور پر ہی اپنا دھیان رکھنا چاہیے۔ اس بیان سے تھوڑا سا اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہنی ضروری ہے کہ بے شک مہتمم کا سارا دھیان مذہبی معاملات پر ہونا چاہیے، مگر اس کو آج کے بدلتے ہوئے منظر نامہ میں ٹیکنیکل و سائنٹفک نظریات بھی رکھنے چاہئیں اور مولانا وستانوی اس لحاظ سے دارالعلوم کے مہتمم بننے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ بے حد پڑھے لکھے قابل اور سائنٹفک نظریات کے حامی ہیں۔ بس نہ جانے کیسے چوک ہوگئی، جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، مہتمم منتخب ہونے کے بعد مولانا وستانوی نے سونیا گاندھی کے خاص مشیر احمد پٹیل سے بھی ملاقات کی تھی۔  اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ملاقات نے بھی کوئی سیاسی رنگ لے لیا ہو اور کچھ لوگوں کو اس پر خطرہ لاحق ہوا ہو۔ میڈیا نے جو کام کرنا تھا کر دکھایا اور آگ میں تیل ڈالنے کا کام خود مولانا وستانوی نے ہی کیاہے۔ یہاں دارالعلوم دیوبند کے طلباء سے بس اتنا کہنا ہے کہ کیا ہوتا ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ کس کی سیاست ہے؟ کیسی سیاست ہے؟ انہیں اس میں نہیں پڑنا چاہیے۔ انہیں بس اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ ان کا جو کام ہے، وہ اہل سیاست جانیں۔ طلبا کیوں اس لڑائی میں کود گئے۔ انہیں تو ابھی اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ اس بات کا پتہ لگا سکیں کہ کیا کھیل رچا جارہا ہے۔ ہم مسلمان بھی بے حد جذباتیت سے کام لیتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے کسی نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں اور ہماری اس جذباتیت کا فائدہ موقع پرست لوگ اٹھا لے جاتے ہیں۔ ایک بات اور ہے۔ اسلام معافی کو پسند کرتا ہے۔ مولانا وستانوی نے اگر معافی مانگ لی ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کے انٹرویو کو غلط کوٹ کیا گیا ہے تو اس معافی کو کھلے دل سے قبول کرکے ایک کھلے دل و دماغ اور تعلیم یافتہ شخص کو ایک موقع اور دینا چاہیے اور گجرات کے فساد کا ماتم نہ کر کے اب واقعی آگے نکلنے کی ضرورت ہے۔ نریندر مودی کو معاف نہ کیجیے بالکل معاف نہ کیجیے بلکہ اس کے لیے دل میں نفرت ہی رکھ کر آگے بڑھیے اور اس نفرت کو اپنی تعلیم و تربیت سے اس طرح نکھاریے کہ آپ کسی ایسی جگہ، کسی ایسی پوسٹ یا کسی ایسے ادارے میں پہنچ جائیں کہ آپ اس گجرات فساد کے شکار لوگوں کی مدد بھی کرسکیں اور ان کی بازآبادکاری کا کام بھی۔