Showing posts with label waseem rashid. Show all posts
Showing posts with label waseem rashid. Show all posts

Friday, 10 June 2011

قائد اعظم آئو ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان۔۔۔

وسیم راشد
ابھی کچھ دنوں قبل ہمارے محترم وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’’دوست بدلے جاسکتے ہیں، مگر پڑوسی نہیں۔‘‘ ظاہر ہے یہ بات انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کی تھی۔ کہنے کا مطلب کچھ بھی رہا ہو،پاکستان اس وقت ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جب دوست، پڑوسی سبھی اس کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ پاکستان جو دنیا کا دوسرا بڑا مسلم اکثریت والا ملک ہے، اس وقت تن تنہا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر دن نئی مصیبت، نئی پریشانی اور نئی بدنامی کی وجہ سے ایکLost State بن چکا ہے۔ حکومت کیا کر رہی ہے، کیسے چل رہی ہے، کیا بیان دینا ہے، کیا ایکشن لینا ہے، کس کو صفائی دینی ہے، کس کو بچانا ہے، کس کو مارنا ہے، کچھ نہیں پتہ۔ خفیہ ایجنسی کیا کر رہی ہے، افسران کیا کر رہے ہیں، کسی میں کوئی آپسی تال میل نہیں ہے۔ ابھی چند دنوں قبل ملا عمر کے مرنے کی خبر آئی، پھر تصدیق ہوئی کہ وہ مرا نہیں۔ ایسے میں ہمیں ایک شعر یاد آرہا ہے کہ:
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بے شک پاکستان کا اندرونی انتشار، اسامہ کی موت، آئی ایس آئی کا کردار، پاکستان کے بحری اڈے پر دہشت گردوں کا حملہ اور 16 گھنٹے کی کارروائی کے دوران ہوئی تباہی، یہ سب وہ پے در پے حادثات ہیں، جنہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو یقینا دیوانہ سا بنا دیا ہے۔ یہاں ہم پاکستان سے ہمدردی نہیں جتا رہے ہیں، مگر آپ خود سوچئے کہ کسی کے گھر میں پے در پے حادثات ہوتے رہیں تو صاحب خانہ غریب دیوانہ تو ہو ہی جائے گا، وہی حال پاکستان کا ہے۔
سبھی حکمراں اپنی کرسی اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے الٹے سیدھے بیانات دے رہے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان ڈرون حملے کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ ملٹری کمزور، حکمراں بے بس، عوام مہنگائی سے بدحال، نوجوان مستقبل کی فکر سے بوکھلائے ہوئے، یہ ہے اس وقت کا پاکستان۔ پاکستان کی ایک بہت اچھی شاعرہ ہیں گلنار آفریں۔ انہوں نے کافی عرصے قبل ایک نظم کہی تھی۔
قائد اعظم آؤ ذراتم دیکھو اپنا پاکستان
جس کی بنیادوں کی خاطر
لاکھوں نے دی اپنی جان
جس کی خاطر کھیت جلے کھلیان جلے گھر بار لٹے
ماؤں کے کلیجے چاک ہوئے
جب کڑیل بیٹے خاک ہوئے
پھولوں کا سنگھاسن ڈول گیا
پرواز پرندے بھول گئے
احساس کے جھرنے سوکھ گئے
دریا کی روانی رک سی گئی
یوں خون کی ہولی کھیلی گئی
دشوار بہت تھی راہ طلب
ہر گام مگر ہم ساتھ رہے
ہم بن کے تمہاری شان رہے
ہاتھوں پہ لیے قرآن رہے
جو تم نے کہا وہ ہم نے کہا
لے کے رہیںگے پاکستان
بن کے رہے گا پاکستان
قائد اعظم آؤ ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان
میرا خیال ہے، جس وقت کی یہ نظم ہے، اس وقت میں اور اب میں تو پاکستان کی صورت حال بالکل الگ ہے، اب تو پاکستان اسی خطرناک لائن پر آگیا ہے، جس سے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے نہ آگے جاسکتا ہے۔ یقینا محمد علی جنّاح نے جو خواب اسلامی مملکت کا دیکھا تھا، وہ چکناچور ہوچکا ہے۔ آج آئی ایس آئی کے کردار پر بے شمار سوالات لگائے جارہے ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ اسامہ کو آئی ایس آئی نے ہی پناہ دی ہوئی تھی، اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ایبٹ آباد میں پاکستانی فوجی اکیڈمی ہے، پھر اسامہ وہاں 6 سال تک کیسے چھپ سکتا ہے؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعی اسامہ ایبٹ آباد میں فوجی اکیڈمی کے پاس رہ رہا تھا تو پاکستانی ملٹری کو میڈل دینا چاہیے کہ وہ کسی طرح نہ اپنے بارڈر کی حفاظت کرسکے اور نہ ہی اتنے بڑے دہشت گرد کا پتہ لگا سکے۔ پاکستان سے شائع مختلف اخبارات پر ہماری لگاتار نظر ہے اور اب جب کہ انٹرنیٹ نے یہ سہولت ہماری میز تک پہنچا دی ہے تو ہم بھی اس کا فراخدلی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے ایک مشہور اخبار’’دی نیوز‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ کے کچھ مضامین پر ہماری نظر پڑی تو ایک مشہور صحافی ایاز بابر کا ایک مضمون تھا جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پاکستان ایک ناکام مملکت ہے۔ اب جب ہیڈلی کے اعترافات کے بعد 26/11 میں ممبئی حملوں میں کس طرح اس نے باقاعدہ نہ صرف لشکر طیبہ بلکہ آئی ایس آئی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ہیڈلی نے جس میجر اقبال کو ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے، کہیں یہی شخص تو آئی ایس آئی کا سربراہ نہیں ہے۔ آئی ایس آئی پاکستان کی انٹر سروسس انٹیلی جنس ہے، جس کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔ اس کی Juristiction میں صاف لکھا ہے کہ حکومت پاکستان اس کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ پاکستان کی 3 خفیہ ایجنسیاں ہیں، جن میں آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو اور ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلی جنس ہیں۔ جن میں آئی ایس آئی سب سے پہلی ایجنسی ہے۔ اس کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ ہند-پاک 1947 کی لڑائی کے بعد پاکستان کی تینوں بحری، بری اور ہوائی افواج میں ملٹری انٹیلی جنس کو مضبوط کرنا۔ مگر آئی ایس آئی نے تو اپنے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگادیاا ور دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے والی ایجنسی بن گئی۔ یہ بھی بتایا ہے کہ میجر اقبال نے ہندوستان میں حملے کے لیے مقامات کی نشاندہی کرنے اور پوری طرح ان مقامات کی ویڈیو بنانے اور تصاویر کھینچنے کا کام اس کو سونپا تھا۔ نیشنل ڈیفنس کالج ممبئی دہلی، ممبئی ایئر پورٹ، ممبئی پولس ہیڈکوارٹر، بحری اڈہ اور یہودی کمیونٹی سینٹر سب ہیڈلی کے دہشت گردانہ حملے کی فہرست میں شامل تھے۔ ایک بات یہاں میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ سبھی مقامات بے حد سیکورٹی والے ہیں۔ دہلی کے ڈیفنس کالج میں بھی سخت ترین سیکورٹی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ کالج کی فلم بھی بنالی گئی۔ پہلی بات تو ایک غیرملکی کو وہاں داخلہ کیسے ملا ہیڈلی کی پوری شباہت اسے بیرونی ملک کا دکھاتی ہے، کیسے اس نے سبھی مقامات کو تصویروں میں قید کرلیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ممبئی حملہ کے لیے خود ہندوستان کی سیکورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے، لیکن حکومت پاکستان نے کیا آئی ایس آئی کے وجود کو اسی طرح تسلیم کرلیا ہے کہ آئی ایس آئی حکومت پاکستان سے بلند ہوگئی ہے۔ اوبامہ سے ابھی ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ کیا کوئی ہائی ویلیو ٹارگیٹ پاکستان جیسا ملے گا تو آپ تب بھی اسی طرح کریںگے تو اوبامہ نے ایک دم بغیر سوچے سمجھے کہا ہاں۔ لیکن میری اپنی رائے تو امریکہ کے لیے بھی یہی ہے اور دوسرے سپرپاور کے لیے بھی کہ خود ان پر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ اپنی دفاع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کے علاوہ بھی جس پر چاہیں مسلط ہوجاتے ہیں۔ صدام حسین کی مثال ہمارے سامنے ہے، حسنی مبارک کا زوال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جس میں براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ ضرور امریکہ شامل ہے۔ قذافی کا حال بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور اسامہ کا حشر بھی ہم نے دیکھا ہے۔ دراصل مغربی ممالک دہشت گردی سے متعلق بھی اور ترقی پذیر ممالک سے بھی دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ اوبامہ کی جرأت کی داد دیں کہ انہوں نے پاکستان میں گھس کر اپنے دشمن کو ختم کردیا، مگر کیا یہی پالیسی وہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اپنائیںگے؟ اگر یہ ممالک دہشت گردی کی زد میں آتے ہیں تو کیا ممبئی حملہ کے دہشت گردوں کا بھی اوبامہ اسی طرح کسی آپریشن میں صفایا کریںگے؟
چلئے پاکستان کے مستقبل کی بات کرتے چلیں۔ پاکستان کا مستقبل تو یقینا خطرے میں ہے، مگر کیا کوئی وہاں کے غریب عوام کے بارے میں بھی سوچتا ہے؟یہ لوگ جو اچھی تعلیم، اچھی نوکریوں اور پرامن ملک کے متلاشی ہیں، کیا ہے ان نوجوانوں کا مستقبل؟ ایک اور اہم بات کسی زمانے میں پاکستان ہندوستان کا ہی ایک حصہ تھا۔ دونوں ممالک یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اب بھی لاکھوں کروڑوں خاندان ایسے ہیں، جن کے ماں باپ انڈیا میں ہیں تو دادا دادی پاکستان میں۔ چچا، تایا، خالہ، ماموں، پھوپھا، پھوپھی، بہن بھائی نہ جانے کتنے ہی رشتے ہیں، جن کی آنکھیں اپنوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہی ہیں۔ کیا ہوگا ان کا؟ اگر دونوں ممالک کے حالات بہتر نہیں ہوئے تو ان سبھی کو جدائی کی آگ میں جھلسنا پڑے گااور اب بھی کون سے ویزا کے اصول نرم ہیں، پاکستان میں تو ابھی ہندوستانی سفارت خانہ نے ایسا فارم نکالا ہے، جس کو بھرنے میں ہی اور انڈیا سے verify ہو کر جانے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ بہت مشکل ہے ویزا ملنا۔ ہندوستان میں پاکستانی ویزا فیس صرف 15 روپے ہیں، مگر دوسرے شہر سے دہلی بار بار آکر ویزا کی جد و جہد میں 15 ہزار لگ جاتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اپنے رشتے داروں کی ڈبڈبائی آنکھیں یاد ہیں، جو رخصت ہوتے وقت ایک ہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ کیا اس زندگی میں دوبارہ مل پائیںگے؟ شاید نہیں شاید ہاں، اس کا جواب نہ ہمارے پاس ہے نہ آپ کے پاس، صرف دونوں حکومتوں کے پاس ہے۔

Friday, 13 May 2011

کولہاپور: پولس ٹریننگ اسکول یا جنسی استحصال کا اڈہ

وسیم راشد
ایک فلم آئی تھی انجام جس میں مادھوری دیکشت شاہ رخ خاں کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتی ہے۔ شاہ رخ خاں شادی شدہ مادھوری سے بے انتہا پیار کرتا ہے اور جب اظہار محبت میں ناکامی ہوجاتی ہے تو وہ مادھوری کے شوہر کا قتل کر کے اس کا الزام مادھوری پر ہی لگا دیتا ہے۔ مادھوری جب حوالات میں ہوتی ہے تبھی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ حاملہ ہے، اسی دوران خاتون پولس انسپکٹر حوالات میں بند دوسری لڑکیوں کو کچھ بڑے سیاست دانوں کے سامنے ان کی ہوس پوری کرنے کے لیے بلاتی ہے اور اسی میں مادھوری بھی شامل ہوتی ہے۔ مادھوری خود کو کس طرح بچاتی ہے اور دوسری لڑکیاں کس طرح اس دلدل میں پھنس جاتی ہیں، یہ پوری فلم کی کہانی ہے، مگر اس میں ایک بات اہم ہے اور وہ یہ کہ جیل کی چار دیواری، پولس اور خاکی وردی میں ملبوس ہمارے وطن کے رکھوالے سب عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ ان سب کے بیچ میں رہ کر بھی عورتوں کی عصمت محفوظ نہیں۔ کچھ دن قبل خبر آئی کہ کولہا پور کے ایک پولس ٹریننگ اسکول میں 11 کنواری ٹرینی کانسٹبل حاملہ پائی گئیں۔ افسوس اس بات کا ہوا کہ یہ ملک جہاں بالی ووڈ کی چھوٹی سے چھوٹی ادنیٰ سے ادنیٰ خبریں تو سارا دن چینل کی زینت بنی رہتی ہیں، وہاں اتنی بڑی خبر بس 2دن اخبار کی زینت بنی اور وہ بھی بہت ہی مختصر سی خبر کی طرح پہلے دن صفحۂ اول پر اور دوسرے دن کسی اندرونی صفحہ کے کسی کونے میں اور کسی کسی چینل نے اس کو اپنے یہاں سے ٹیلی کاسٹ کیا، اس خبر کا کیا اثر ہوا کتنے لوگوں کی گرفتاری ہوئی، کتنے افراد اس میں ملوث پائے گئے، اس کے بارے میں ابھی کوئی بھی مزید اطلاع نہیں مل پائی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جس ٹریننگ اسکول میں ایک نہیں پوری 11 لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہو، اس کو لے کر ہنگامہ کیوں نہیں ہوا، مہیلا مکتی مورچہ، مہیلا مکتی سنگھ جیسی تنظیمیں کہاں سو رہی ہیں۔ معمولی معمولی بات پر ہنگامہ کھڑا کرنے والی دوسری تنظیمیں کہاں ہیں؟ جنسی استحصال کے الزام میں انسپکٹر یوراج کامبلے کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن کامبلے کا کہنا ہے کہ انہیں بلی کا بکرا بنایا گیا ہے، جب کہ ایک پولس ٹرینی نے کامبلے پر ہی الزام لگایا ہے۔ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ مقامی ممبرپارلیمنٹ سدا شیو راؤ کہتے ہیں کہ 11 حاملہ ہیں جب کہ دیگر اطلاعات کے مطابق صرف 3 حاملہ ہیں۔ اب یہ تو آپ اور ہم سبھی جانتے ہیں کہ کسی بھی حاملہ عورت کو چھپایا نہیں جاسکتا اگر شروعات بھی ہے تو بھی میڈیکل کرانے سے حقیقت سامنے آجاتی ہے، ایسے میں یہ بیان چہ معنی دارد؟
خواتین کا استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے، جب سے اس مظلوم قوم نے گھر سے باہر قدم نکالا ہے، تب سے ہوسناکی کا شکار ہوئی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کو گھر سے باہر نکلنے کا حق ہی نہیں ہے اور کچھ تو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت گھر سے باہر صرف اپنے شوق کے لیے نکلتی ہے۔ ستم یہ کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی ہر عورت بدکردار ہے۔ عورت کی پریشانی یہ ہے کہ وہ گھر میں بچوں کو روتا بلکتا نہیں دیکھ سکتی، شوہر کو پریشان نہیں دیکھ سکتی، باپ کے کندھوں کو اپنی شادی کے بوجھ سے جھکتا نہیں دیکھ سکتی اور ماں کے سر میں ہر دن چمکتے تاروں کا اضافہ نہیں سہ سکتی، تبھی وہ گھر سے باہر نکلتی ہے، مگر اس کو سمجھنے والا اس کے جذبے کو سراہنے والا کوئی نہیں ہوتا ہر شخص گھر سے باہر نکلنے اور نوکری کرنے والی عورت کو باپ کا مال سمجھتا ہے۔ معاف کیجیے گا الفاظ ذرا تلخ ہوگئے ہیں، مگر کیا شیرینی میں لپیٹ کر کہنے سے تلخ بات میٹھی ہوجائے گی، نہیں بلکہ اس کا اثر ختم ہوجائے گا اور تلخ بات یہی ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ گھر میں الگ طرح سے باہر الگ طرح سے، گھر میں اس کو بار بار یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ وہ کماتی ہے تو کوئی احسان نہیں کرتی یا کہ کام کرتی ہے تو کیا گھر میں بیٹھ کر کھائے گی، اگر بہو ہے تو ساس نندوں کے طعنے کہ خود تو تیار ہو کر نکل جاتی ہیں، ہم سارادن چولہا پھونکیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس غریب کے ٹوٹتے جسم اور تھکے دماغ کو آسودگی کہیں بھی نصیب نہیں ہوتی۔ آفس یا کسی ادارے میں کام کرتی ہے تو ساتھ کام کرنے والوں کی ہوسناک نگاہیں ہر مرد ایک بار ضرور آزماتا ہے۔
کولہا پور میں جس طرح کنواری لڑکیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس سے کئی باتیں صاف ہیں کہ اس اسکول میں یہ گورکھ دھندہ سالوں سے چل رہا ہوگا، اس کے علاوہ صد فی صد اس میں ایک نہیں کئی افراد ملوث ہوںگے اور وہ بھی بڑی مچھلیاں ہوںگی جن کو جال ڈال کر پکڑا جائے تو ہی قابو میں آئیں گی۔ ہوم منسٹر پاٹل جی نے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس متھلی جھا کو اس پورے معاملہ کا انچارج بنایا ہے۔ کامبلے نے جن دوسینئر پولس آفیسر دیانیشور منڈے اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس پر کالے کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ان کا بھی کیا بھروسہ کہ ان کے ساتھ اور نہ جانے کتنے نام ہوںگے۔ میرا تو یہ ماننا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کو فوری طور پر اوپر سے لے کر نیچے تک سبھی آفیسرز کو اگر وہ اس میں ملوث پائے جائیں تو برخاست کردینا چاہیے۔
اس وقت جب کہ پورا ملک بدعنوانی کا شکار ہے۔ مہنگائی اپنے شباب پر ہے اور آگے بڑھنے کی دوڑ میں ہر شخص دوسرے کو پچھاڑ دینا چاہتا ہے، ایسے میں خواتین ہر جگہ غیرمحفوظ ہیں۔ دلی میں جنوبی دہلی کے ڈیفنس کالونی علاقہ میں ایک 15 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کا واقعہ سامنے آیا۔ میں آپ کو ایک بات بتا دوں کہ ایسا نہیں ہے کہ بڑے شہروں میں ہی لڑکیاں غیرمحفوظ ہیں، چونکہ ان شہروں میں میڈیا تک رسائی اور میڈیا کی عام انسان تک رسائی آسان ہے، اسی لیے یہ واقعات سامنے آجاتے ہیں، جب کہ گاؤں، قصبوں اور دیہاتوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے، وہاں کھیتوں میں کام کرنے والی کسان عورتیں اپنے ہی گھر کے لوگوں کے ذریعے جنسی استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ان معصوموں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا، نہ ہی ان کا ساتھ دینے والا کوئی ہوتا ہے۔ عصمت دری کا شکار ہوئی لڑکیاں یوں تو بدنامی کے ڈر سے سامنے ہی نہیں آتیں اور اگر آ بھی جاتی ہیں تو پھر ایک ہولناک مستقبل ان کے سامنے ہوتا ہے۔ نہ جانے کتنے ہی کیس ایسے ہیں جو ہمارے سامنے ہیں، مگر ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بہار کی ایک خاتون پرنسپل روپم پاٹھک کی ان کے ہی علاقے کے ایم ایل اے کے ذریعہ سالوں عصمت دری ہوتی رہی اور بار بار پرنسپل اس کی شکایت کرتی رہی، مگر وہی ہوا جو ان تمام کیسوں میں ہوتا ہے، روپم پاٹھک پر ہی سوال اٹھائے جانے لگے اور ایک دن تنگ آکر اس نے سرعام ممبراسمبلی کا خون کردیا، گویا اس طرح اس نے اپنے حساب سے انصاف کرلیا، مگر اس کا انصاف کون کرے گا۔ آج بھی وہ بے یار و مددگار جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کے برے دن کاٹ رہی ہے۔ آئی جی راٹھور کا نام کسے یاد نہیں بڑی بڑی مونچھوں والا یہ سخت چہرے والا شخص جس پر روچیکا جیسی معصوم نے جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا، اس نے بھی ایک دن نہ جانے کیسے خود کو بے قصور ثابت کر الیا اور اب بھی وہ آزاد گھوم رہا ہے اور وہ معصوم اپنی جان سے چلی گئی۔ یہ سب تووہ کیس ہیں جو سامنے آگئے ہیں اور بھی نہ جانے کتنے ایسے کیس اگر ہم ڈھونڈنے بیٹھ جائیں تو انٹرنیٹ پر مل جائیںگے، مگر ہم یہاں اپنی قابلیت کا رعب جمانے کے لیے یہ مضمون قلمبند نہیں کر رہے ، بلکہ حقیقتاً اس درد کو آپ سے بانٹ رہے ہیں جو درد ایک عورت ہوتے ہوئے ہم محسوس کرتے ہیں۔ رات دن عورتوں سے جسمانی استحصال اور ان کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، ابھی کئی دن کے اخبارات میں لگاتار شوہر کے ذریعہ بیوی کو زد کوب کرنے اور جلا کر مارڈالنے کی کئی خبریں نظر سے گزری ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ جو عورت ماں، بہن، بیوی کا روپ ہے اس عورت کو باہر اکیلا پاکر کون سا حیوان بیدار ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک بار پورے نظام کو بدلا جائے، خواتین کے تحفظ کے لیے خواتین ہی آگے آئیں اور ان پر جو بھی مظالم ہو رہے ہیں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، دیکھیے ان کی حفاظت کرنے یا ان کا دفاع کرنے آسمان سے تو خدا کسی کو نہیں بھیجے گا خود ان ہی کو اس کا بیڑا اٹھانا ہے، تبھی کچھ حالات بدل سکتے ہیں۔ یہ سب سنی سنائی یا غیر عملی باتیں نہیں ہیں۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ اگر عورت مضبوط ہو تو ا س کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ خدا بھی اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرے۔

Friday, 6 May 2011

مودی کی مسلم مخالف پالیسی ہندو ازم پر بھی داغ ہے

وسیم راشد
لیجئے پھر گجرات فسادات سے متعلق بیان سامنے آ گیا۔ اس بیان کی اہمیت اس لئے نہیں کہ9 سال بعد آیا ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اب مسلمانوں کے زخم کچھ بھرنے لگے تھے اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ بے گناہ لوگوں کو بچایا جا سکے گا۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بدعنوانی کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہے ہمارے انا جی نے مودی کی تعریف اس طرح کی کہ مسلمان جو انا ہزارے کے ساتھ جنتر منتر پر موجود تھے اور ان کے لئے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اچھے اچھے اور بڑے بڑے شعراء کے اشعار لا رہے تھے او رمیڈیا کے سامنے جوش و خروش سے پڑھ رہے تھے ، ان کے جذبات بھی سرد پڑ گئے۔دراصل مودی کا ایشو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے وہ ناسور ہے جس کا علاج تو ممکن نہیں ہے مگر طرح طرح کی دوائیوں سے اس کی تڑپ اور درد کو ہلکا کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس فساد میں تقریباً1044لوگ مارے گئے تھے جس میں 790مسلمان اور 25ہندو تھے (افسوس ہے کہ مرنے والوں کی فہرست ہندو مسلمان کی فہرست سمجھ کر بنانی پڑ رہی ہے جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اتنے ہندو یا مسلمان نہیں اتنے انسان مرے۔) 223سے 250تک لوگ اس فساد میں ایسے کھوئے کہ ابھی تک پتہ نہیں چل پایا۔  2548کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ ایک ہزار کے قریب عورتیں بیوا اور 606بچے یتیم ہو گئے تھے۔ایسا فساد جس سے پوری دنیا ششدر رہ گئی اور جس نے جلیاں والا حادثہ کو پھر سے تازہ کر دیا اور مودی کی شبیہ ایسی داغدار ہوئی کہ بیرون ممالک میں جانے کے لئے ویزا تک نہیں ملا ۔
ہاں یہ سلوک مودی کے ساتھ غیروں نے کیا۔ ہمارے اپنوں نے تو ان کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار پھر سے اسی ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔گویا اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ جو بھی مودی نے کیا وہ اس کا حق تھا ۔ بی جے پی یہ بھول گئی کہ مودی کی مسلم مخالفت دراصل ہندو ازم کی شبیہ خراب کرنا ہے۔کیونکہ پوری دنیا میں ہندو مذہب بھی اپنی روایت کی پاسداری ، حسن سلوک اور انسانی ہمدردی کے لیے جانا جاتا ہے۔مودی کے اس اینٹی مسلم کردار سے ایک طرح سے وہ اینٹی ہندو ازم کی مثال بن جاتے ہیں۔ مودی سے متعلق مختلف بیانات پھر سے سامنے آرہے ہیں اور اس بار گجرات کے ہی ایک سینئر پولس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے اپنے حلف نامہ میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر یہ الزام لگایا ہے کہ انھوں نے گودھرا کی ٹرین میں کار سیوکوں کو جلائے جانے کے واقعہ کے بعد اعلیٰ پولس افسروں سے کہا تھاکہ وہ ہندئوںکو اپنا غصہ نکالنے دیں۔
سنجیو بھٹ 2002میں فسادات کے وقت انٹیلی جنس کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ بھٹ کا یہ بیان بے حد اہم ہے کیونکہ بھٹ نے27فروری 2002کو گودھرا کے واقعہ کے بعد احمد آباد میں جب اعلیٰ پولس افسران کی میٹنگ بلائی تو مودی نے پولس سے کہا کہ ’’وہ فسادیوں کو نہ روکیں اور مسلمانوں کی طرف سے مدد کی التجائوں پر توجہ نہ دیں‘‘ یہ ہے مودی کی مسلم دشمنی کا جیتا جاگتا ثبوت۔ مسلمانوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ خود کو نیشنل ایشوز سے نہیں جوڑتے۔ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث رہتے ہیں۔ان کی داڑھی، ٹوپی پر بار بار نکتہ چینی کی جاتی ہے مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ مسلمانوں نے تو جنگ آزادی سے لے کر آج تک بار بار اپنے وطن عزیز کے لئے قربانیاں دی ہیں۔مگر اسی ملک نے ایک مودی تک کی قربانی نہیں دی۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے زخم ہمیشہ ہی ہرے رہے۔18صفحات پر مشتمل اپنے حلف نامہ میں سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ کو یہ تفصیلات فراہم کیں کہ اس میٹنگ میں آٹھ افسران شامل تھے اور ان سے مسٹر مودی نے کہا کہ’’ ایک طویل عرصہ سے گجرات پولس اب مذہبی فسادات میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ہمیشہ balanced رہی ہے لیکن اس بار ایسی صورتحال ہے کہ مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے پائے۔‘‘مسٹر سنجیو بھٹ نے اپنے حلف نامہ میں یقینا سچائی سے کام لیا ہوگا۔اب یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر 9سال بعد سنجیو بھٹ کا ضمیر جاگا ہے، کیونکہ جس وقت رپورٹرس نے ان سے سوال کیا کہ آخر ان کا یہ سب اس وقت کرنے کا کیا مقصد ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ میرا کوئی مقصد نہیں ہے میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔اس جواب سے ایک عام مسلمان تو مطمئن ہو سکتا ہے مگر ایک صحافی کے دل میں ضرور شک و شبہات پیدا ہو ں گے کہ آخر اس فرض کو پہلے ادا کیوں نہیں کیا گیا؟ رپورٹر نے ان سے یہ سوال بھی کیا کہ ان کو کبھی دھمکی بھی ملی ہے تو بھی بھٹ نے جواب دیا کہ انہیں جو بھی کہنا ہے وہ سپریم کورٹ میں کہیں گے۔ ہاں یہ ضرور انھوں نے کہا کہ دسمبر 2002سے 2009تک نہ کورٹ نہ کمیشن نے نہ کسی ایجنسی نے ان کو بلا کر کچھ پوچھا ۔ سنجیو بھٹ نے ایس آئی ٹی کو بھی یہ باتیں بتائی تھیں لیکن اس نے ان کے بیان پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ایسا ہی آر بی سری کمار کے ساتھ بھی ہوا تھا کہ انھوں نے نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ایک حلف نامہ گجرات فساد پر جمع کرایا تھا لیکن تب بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔آر بی سری کمار بھی انٹیلی جنس بیورو میں تھے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھٹ کے ذریعہ داخل کیا گیا حلف نامہ ان کے حلف نامہ کو اور بھی پختہ کرتا ہے۔دیکھئے کیا رول ہے ہماری انٹیلی جنس بیورو کا کہ بار بار ایک شخص کے خلاف حلف نامے داخل ہو رہے ہیں،مگر اس شخص کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔
بھٹ 1988کے بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہے اور اس وقت جونا گڑھ اسٹیٹ ریزرو پولس ٹریننگ سینٹر میں پرنسپل کے عہدہ پر فائز ہیں۔ بھٹ کو یہ بھی حیرانی ہے کہ 27اپریل کو دوسرے اور معاملات کے ساتھ اس حلف نامہ کو سامنے آنا تھا یہ میڈیا میں پہلے سے کیسے لیک ہو گیا۔ یہ ہندوستان ہے جناب یہاں پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی یہ تک پہلے سے پتہ لگا کرپتہ لگا کر اگر لڑکی ہے تو اسے پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے جو بہت بڑا قانونی جرم ہے تو پھر میڈیا میں یہ رپورٹ آ جانا کون سی بڑی بات ہے۔ہاں ایک مثبت بات ضرور ہوئی کہ بھٹ کے اس حلف نامہ کے مواد پر گجرات کانگریس صدر ارجن مودھ واڑیا نے بی جے پی اور اس کے اعلیٰ افسران سے جواب طلب کیا ہے اور ان کی یہ بات حق بجانب ہے کہ بی جے پی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پر اتنے بڑے ایشوپر بی جے پی خود قوم کو کیا جواب دے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بی جے پی نے بھی ایک صحیح اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہوتا تو آج کانگریس حکومت کی سبھی بدعنوانیاں سامنے آتی جاتیں اور حکومت اپوزیشن کو جواب دہ ہوتی۔مگر اٹل بہاری واجپئی کے بعد بی جے پی میں لیڈر شپ کا فقدان ہے ، اڈوانی جی نتن گڈکر ی کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔سشما سوراج صرف گرجنے کے لئے ہیں۔ بڑی ہنسی آتی ہے سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی کے اس بیان پر جو انھوں نے بھٹ کے بیان کے بعد دیا ہے کہ جوڈیشیل میکانزم اس پورے معاملہ کو دیکھے گا۔ اس لئے اس کو اس پر چھوڑ دینا چاہئے۔آفریں ہیںتیستا سیتلواڑ پر جو گجرات فسادات کے بعد برابر مسلمانوں کے حقوق کے لئے ان کو انصاف دلانے کے لئے لڑ رہی ہیں ۔ انھوں نے خود بھی اس بات کو مانا ہے کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ براہ راست کسی ایسے شخص کی طرف سے جو وہاں خود موجود ہو سچائی سامنے آئی ہے اور وہی بات انھوں نے کہی ہے جو مسلمانوں کے دل ودماغ میں ہے اور جس کو وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتے ہیں اور جس کی کوئی سنوائی نہیں کہ ایسے چیف منسٹر کو دو بار منتخب کیا گیا جس کو گجرات فساد کے بعد ہرگز دوبارہ نہیں بنانا چاہئے تھا ۔ جو خود گجرات کا مالک ہے ، وہاں کا حکمراں ہے ، وہ کیسے تفتیش کو غیر جانبدار رہنے دے گا۔ تیستا کے اس بیان سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ گجرات فساد کی آج بھی صحیح تفتیش نہیں ہو پائی ہے۔ ابھی تو اور نہ جانے ایسے کتنے عقدے کھلیں گے ۔ سابق آئی پی ایس افسر جی ایس راج گڑھ جو کہ گجرات میںتعینات تھے۔ ان کا یہ کہنا کہ فروری 2002میں جب میٹنگ رکھی گئی وہ چھٹی پر تھے۔ اس لئے انہیں پتہ نہیں کیا ہوا۔یہ بھی ایک سوال ہے؟کہ آخر وہ چھٹی پر کیوں تھے، ایسے میںجبکہ پورا ملک ، پوری ریاست جل رہی ہو اور اتنے اہم ایشو پر میٹنگ بلائی جا رہی ہو۔ ایک سینئر پولس آفیسر کا چھٹی پر جانا چہ معنی دار ؟ادھر ذکیہ جعفری کے ذریعہ بار بار یہ الزام لگایا گیا کہ مودی سمیت سینئر پولس آفیسر اور سینئر بیوروکریٹس سبھی اس فساد میں شامل تھے۔یہ ضرور ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بار بار مختلف اداروں، تنظیموں، این جی اوز ، صلاح کار کمیٹیوں اور فلاحی تنظیموں کے ذریعہ گجرات فساد کے انصاف پر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں لیکن اس بار یہ ضرور ہے کہ اس حلف نامہ نے بی جے پی کو مجبور کر دیا ہے کہ پھر سے مودی کے بارے میں سوچا جائے اور قوم بھی اڈوانی سے کچھ امید رکھتی ہے۔ہاں کچھ سوال ضرور اس تعلق سے ایک ادنیٰ صحافی کے دماغ میں کلبلا رہے ہیں، جن کا جواب آپ کو بھی چاہئے۔
٭    پہلا سوال یہ ہے 9سال بعد ہی سنجیو بھٹ کو یہ خیال کیوں آیا ؟
٭    جو ثبوت وہ سپریم کورٹ میں پیش کرنے والے ہیں، وہ ان کے پاس پہلے سے موجود رہے ہوں گے، ان میں کتنی سچائی ہے؟
٭    27فروری 2002کی میٹنگ میں بھٹ کی موجودگی سے مودی حکومت کیوں انکار کر رہی ہے؟
٭    27فروری کی میٹنگ میںاور آفیسر بھی موجود رہے ہوں گے ، انھوں نے کیوں خاموشی اختیار کی، کیا سبھی کا ضمیر مردہ ہے؟
٭    ناناوتی کمیشن جو گجرات فسادات کی جانچ کر رہا ہے ، اس نے بھٹ سے کیوں پوچھ تاچھ نہیں کی؟
٭    ایک آخر ی لیکن ذرا چبھتا ہوا سوال، وہ یہ کہ سنجیو بھٹ کب ریٹائر ہو رہے ہیں، کہیں یہ مستقبل کی کوئی پلاننگ تو نہیں ہے؟
اپنے آخری سوال پر ہم خود شرمندہ ہیں، کیونکہ ابھی تک تو سنجیو بھٹ نے بڑی ہمت اور جواں مردی سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں کسی پینل یا عدالت کے سامنے طلب کیا گیا تو وہ سارے ثبوت پیش کر دیں گے۔ خدا کرے سنجیو بھٹ کی شکل میں مسلمانوں کا کوئی سچا ہمدرد سامنے آئے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک سنجیو بھٹ کیا ایسے نہ جانے کتنے ہی سنجیو بھٹ سامنے آ جائیں اور مودی کی مسلم مخالفت کھل کر سامنے آجائے اور سرکردہ اور تعلیم یافتہ ہندوبھائیوں کو بھی اس کا بات کا احساس ہوجائے کہ کہیں نہ کہیں مودی سے ان کے ہندوازم پر بھی داغ لگ رہاہے۔

Friday, 15 April 2011

نئی نسل کا اردو ذوق و شوق پرانی نسل کے لئے سبق ہے

وسیم راشد /waseem rashid
سیاسی مضامین لکھتے لکھتے کبھی کبھی دل گھبرانے لگتا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی دہلی آمد۔ ہند-پاک کرکٹ میچ، شنگلو کمیٹی کی حکماء اور بھنوٹ کو سرزنش۔ پاکستان کی مذہبی جماعت جمعیۃ علماء اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملہ وغیرہ اور ان سب کے دوران یہ خبر کہ ہم ہندوستانی اب ایک ارب 21 کروڑ ہوگئے ہیں اور یہ خوش خبری بھی کہ آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری اردو کتاب میلہ۔ اب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ ان سب سیاسی ہنگامہ خیز یوں میں یہ اردو کتاب میلہ کہاں سے آگیا تو ہوا یوں کہ ہم نے تو قلم اٹھایا تھا ہند-پاک کرکٹ میچ ڈپلومیسی پر لکھنے کے لیے لیکن ایک صاحب تشریف لائے جو کافی مشہور و معروف اردو والے ہیں اور اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں۔ خود کو اردو والے کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور دوسروں کو بہت ہی حقارت سے یہ کہہ کر کہ ’’ہیں نا اردو والے‘‘ اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ان کا اردو والوں سے یہ شکوہ تھا کہ یہ نہ اردو کی کتابیں خریدتے ہیں نہ اردو کے فروغ میں کچھ حصہ لیتے ہیں۔ اردو کے پروفیسرز، لیکچررز، ریڈرزسے تو وہ بہت ناراض تھے کہ یہ اتنی زیادہ تنخواہ تو لے لیتے ہیں مگر اردو کی کتابیں خریدنے میںان کے ہاتھ جیبوں تک جاتے ہی نہیں۔ خیر یہ تو ان کی رائے تھی ، لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اردو کتاب میلے پر ہی اس بار لکھا جائے، میلے کے دوران ہم بھی لگاتار وہاں حاضری لگا رہے تھے، کیوں کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کا ہمارا اپنا اسٹال لگا ہوا تھا، اس کے علاوہ ہر سال جہاں بھی یہ میلہ لگتا ہے، ایک عجیب سی کشش کے تحت ہم بھی کھنچے چلے جاتے ہوں۔ قومی اردو کونسل، مکتبہ جامعہ اور دہلی اردو اکادمی کے تعاون سے یہ میلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم کے باہر والے وسیع و عریض لان میں لگایا گیا تھا۔ قومی اردو کونسل جس طرح اردو کی ترویج و ترقی کے لیے کام کر رہی ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ تقریباً ایک سال سے کونسل کے پروگراموں میں لگاتار شرکت کر رہی ہوں اور اسکول و کالج کی سطح پر اردو زبان کے مسائل، اردو زبان کی تدریسی کتابوں کے مسائل، اردو میں کمپیوٹر کورس اور اب نوجوان صحافیوں کے لیے تربیتی کورس یہ سب وہ کام ہیں جو اردو کونسل نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کے بغیر مہم کی طرح انجام دے رہی ہے۔ بلاشبہ حمیداللہ بھٹ صاحب لائق ستائش ہیں جو بار بار اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اردو کتاب میلہ بھی اس کی ایک کڑی تھی، جو کونسل کی جانب سے ہر سال کسی نہ کسی شہر میں لگایا جاتا ہے۔ اسی طرح دہلی اردو اکادمی کو نہ جانے یہ ہلکے سے گندمی رنگ والا ہیرا اخترالواسع کی شکل میں کہاں سے مل گیا۔ ہیرے کا رنگ سفید ہوتا ہے یہ تو دیکھا ہی تھا اور سنا بھی پر یہ یاقوتی ہیرا تو بے مثال ہے۔ کس قدر کام ان کی تقرری کے بعد دہلی اردو اکادمی اردو کی ترویج و ترقی کے لیے انجام دے رہی ہے۔ وہ ایک فعال وائس چیئرمین کی موجودگی کا ہر جگہ احساس کراتے ہیں اور پھر اس اکادمی کو نوجوان فعال سکریٹری انیس اعظمی کی شکل میں مل گیا گویا معاملہ دو آتشہ ہوگیا۔ اب یہ دونوں راغب صاحب، شمیم صاحب جو کہ اکادمی کے سرگرم ارکان میں ہیں اور دوسرے اراکین کی مدد سے لگاتار بس اردو کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور مکتبہ جامعہ تو وہ ادارہ ہے جس کو ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد مجیب اور ڈاکٹر عابد حسین جیسی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ گویا یوں کہہ لیجیے کہ اس اردو میلے کو بہتر سے بہتر بنانے میں ان سبھی اداروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر مگر مگر، اب آگے اس مگر کے درد کا بھی احساس کراتے چلتے ہیں۔ جامعہ کے وسیع و عریض لان میں لگے اس میلے میں غالب انسٹی ٹیوٹ، انجمن ترقی اردو ہند، دی سنڈے انڈین، عاکف بک ڈپو، انجم بک ڈپو، الکتاب پبلی کیشنز، البلاغ پبلی کیشنز، ملی پبلی کیشنز وغیرہ کم سے کم 50 اسٹال لگے ہوئے تھے بے حد خوبصورتی سے ہر اسٹال سجایا گیا تھا، مگر سبھی اسٹالوں پر اکا دکا ہی بھیڑ نظر آرہی تھی۔ سبھی کا یہ کہنا تھا کہ دیکھنے کو تو بہت لوگ آتے ہیں، مگر خریدنے والے کم ہیں۔ ہاں ایک خوش آئند بات بھی دیکھنے کو ملی کہ نوجوان نسل اس میلے میں اردو میں کچھ مشہور کتابوں کے تراجم تلاش کرتی ہوئی نظر آئی جیسے الحسنات سے شائع مائیکل ہارٹ کی کتاب کا اردو ترجمہ سو عظیم آدمی، جے کرشنا مورتی کی کتاب کا اردو ترجمہ زندگی کی اہمیت وغیرہ کتابوں کی زیادہ مانگ تھی۔ مگر سبھی اسٹال مالکان کا یہ کہنا تھا کہ اگر صرف دہلی کے ہی سارے اردو استاد اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے کتابیں خریدنے پر آجائیں تو ہزاروں کی سیل ہوسکتی ہیں۔ خود مجھے اس بات کا تجربہ ہوا کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے اسٹال پر بھیڑ لگی رہی، سب نے اس کے کاغذ کی، طباعت کی، کلر اسکیم کی، مواد کی بے حد تعریف کی، مگر اس کی صرف اور صرف 250 روپے سالانہ ممبر شپ لینے میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔ وہی اس اخبار کو اٹھا کر دیکھتے تھے اور بے حد متاثر ہوکر داد دیتے تھے اور پھر اس کے ممبر بن جاتے تھے۔ یہ سب ہم صرف ایک تماشائی کی طرح دیکھ رہے تھے اور دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے تھے، مگر یہ سب بہت ہی خوش کن تھا۔ کالج، یونیورسٹی کے اساتذہ اور مشہور اردو ہستیوں کو تو یہ زعم تھا کہ ہم کو تو اخبار مفت میں ملنا چاہیے اور تو آپ ہمیں بھیج ہی رہے ہیں ہم پڑھ بھی رہے ہیں، یہ بھی کیا کم احسان ہے اور پھر آپ کا ادبی صفحہ ہمارے دم سے ہی چھپ رہا ہے، مگر یقین جانییہمیں ان کے ممبر نہ بننے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا نوجوان نسل کے ممبر بننے کی خوشی۔
اس اردو میلے کو کامیاب بنانے میں قومی اردو کونسل، دہلی اردو اکادمی نے جیسے جان لگادی۔ روز ہی کوئی نہ کوئی ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ ایسے ایسے ادباء اور شعراء کو بلایا گیا، جس کو دیکھنے اور سننے کے شوق میں اس میلے کی رونق بڑھ جائے۔ مشاعرہ، قوالی، شام غزل، ڈراما وغیرہ غرضیکہ ہر عمر اور ہر طرح کے شوق رکھنے والوں کے لیے دہلی اردو اکادمی نے جتنی بھی محفلیں سجائیں، وہ لائق ستائش تھیں اور اس بات کا ثبوت کہ اردو کی ترقی کے لیے اس کی آبیاری کے لیے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا، بس اس زبان کا پودا ہرا بھرارہے۔ اپنے اس اداریہ میں ہم نے بے جا کسی کی تعریف نہیں کی، کیوں کہ ہم نے جو دیکھا، محسوس کیا اور جو جذبہ نظر آیا، اس کو من و عن بیان کردیا، کیوں کہ یہی رونا رویا جاتا ہے کہ اردو کے لیے اردو والے کچھ نہیں کرتے، مگر ہم یہ کہیںگے کہ اردو والوں میں اردو اداروں کو مت جوڑیے۔ ادارے تو اپنا کام کر رہے ہیں، مگر اردو والوں میں ہم اور آپ آتے ہیں۔ اس زمرے میں ہمارا اور آپ کا ہی تعاون درکار ہے اور ہم اردو والے اس کی بدحالی کے خود ذمہ دار ہوںگے، کیوں کہ ہر سطح پر اردو کے لیے کام ہو رہا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہنا ہے کہ صرف مشاعرے اردو کی بقا کے لیے کافی نہیں ہیں۔ مشاعروں سے زبان کا زوال ہو رہا ہے۔ زبان کو اگر بچانا ہے اور اس کے لیے نسلیں تیار کرنی ہیں تو اسکول کی سطح پر جنگی پیمانے پر یہ کام کرنا ہوگا۔ اردو کتاب میلہ سال میں ایک بار نہیں ہر شہر میں کم سے کم تین چار بار لگنا چاہیے اور اس کے لیے سبھی اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اردو کے سبھی اساتذہ کو بھی اپنے اپنے اسکول و کالج کے بچوں کو میلے میں لانا چاہیے تاکہ ان میں کتابیں خریدنے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ اس میلے میں سوائے جامعہ کے اور کسی اسکول کے بچے نظر نہیں آئے۔ دہلی میں اردو میڈیم اسکول کتنے ہیں اس کی تعداد کا تو ہمیں اندازہ نہیں، مگر دہلی کے ہر علاقے میں کم سے کم 4اردو میڈیم اسکول ہیں، اس کے علاوہ دہلی کے کچھ ایسے بھی انگلش میڈیم اسکول ہیں جن میں اردو پرائمری سے سینئر سکنڈری تک پڑھائی جاتی ہے۔ ان اسکولوں میں، ہمدرد، نیوہورائزن، کریسنٹ، شفیق میموریل، ڈی پی ایس متھرا روڈ، نوئیڈا ایم اے ایف اکیڈمی، اس کے علاوہ اوکھلا میں ہی کئی اسکول ہیں، غرضیکہ اگر ان اسکولوں کے اساتذہ اپنے اسکول کی پرائمری سے سینئر سکنڈری تک کی کلاسوں کو بھی اس میلے میں وزٹ کراتے تو کوئی وقت ایسا نہ ہوتا جب اس میں بھیڑ نہ ہوتی اور اردو کتابوں کی سیل بھی بے پناہ ہوتی۔ بچے چھوٹی چھوٹی شاعری کی کتابیں ہی خریدتے یا چھوٹی چھوٹی کہانیاں، اس سے ان میں ذوق و شوق بھی پیدا ہوتا اور زبان کی اصلاح بھی ہوتی۔
ہم کو تو دو ٹوک لکھنے اور کہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے، کیوں کہ ہمارے اخبار کی پالیسی میں ہے سچ کہنا، دو ٹوک کہنا اور سکھی رہنا۔

Thursday, 24 March 2011

مناتے رہئے یوم خواتین اور کرتے رہئے انہیں کا دامن داغدار


waseem rashid 
وہ ہفتہ تھا یوم خواتین کا یعنی اس ہفتے میںایک دن پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن مانا جاتا ہے اور منایا جاتا ہے یعنی 9 مارچ اور 9 مارچ کو ہی کئی خبریں ایک ساتھ سامنے آئیں۔ وہ خبریں اس طرح ہیں۔

راجدھانی میں طالبہ اور ضعیفہ کا قتل یعنی یوم خواتین کے ہی دن دہلی یونیورسٹی کی طالبہ کو گولی مار کر قتل کردیا گیا اور ساتھ ہی ایک 83 سالہ بزرگ خاتون کا بھی قتل ہوگیا۔ ایک طرف ایک نوجوان لڑکی صرف اور صرف 22 سال کی، اندازہ لگانے والے بھی ظاہر ہے نوجوان لڑکی کے حساب سے ہی اندازہ لگارہے تھے، جس میں سب سے پہلا اور مضبوط اندازہ یقینا یہی تھا کہ معاملہ محبت کا ہی رہا ہوگا، لڑکی کا انکار لڑکے کی ہار۔ لڑکی کی بے وفائی لڑکے کی بدلے کی آگ وغیرہ۔ مگر دوسری طرف بھلا 85 سالہ ضعیفہ سے کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی تھی؟ یہاں تو نہ معاملہ محبت کا ہوسکتا ہے نہ ہی بے وفائی کا۔ ہاں جائیداد، خاندانی جھگڑے ہوسکتے ہیں، مگر ایک 85 سالہ ضعیفہ کو مارنا کوئی بہادری نہیں ہے۔ اس ہفتے کی دوسری خبروں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ ساگر پور میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر ہوتا ہے اور پھر اینٹ مار مار کر اسے مردہ سمجھ کرچھوڑ کر مجرم چل دیتے ہیں۔ دہلی کے جگت پوری میں ایک انجینئرنگ کالج کی پروفیسر اور طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا واقعہ، جس میں غازی آباد کے ایک انجینئرنگ کالج کی ایک پروفیسر کو انہی کے کرائے دار نے راستے میں روک لیا اور چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی۔ 17 سالہ طالبہ کو بھی ایک لڑکے نے راستے میں چھیڑا اور جب اس لڑکی نے شور مچایا تو اس پر تیزاب ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
یہاں ان سبھی خبروں کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ منارہے ہیں یوم خواتین۔ پورے ہفتہ خواتین کے اعزاز میں لاکھوں روپیہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اپنی انہی تنظیموں، اداروں، این جی اوز اور مختلف انجمنوں کو جو یوم خواتین منانے کے لیے لاکھوں روپیہ مل رہا ہے، اس کا 10 فیصد خرچ کر کے ایسی ایسی خواتین کو تلاش کیا جارہا ہے جو سماجی اور سیاسی حیثیت سے اس ایوارڈ کی حق دار ہوں اور ان پر کوئی حرف نہ آسکے کہ بھئی پیسے کا صحیح استعمال نہیں ہوا، مگر کیا 2 گھنٹے کا پروگرام کرنے، ایک دن منانے یا ایک ہفتہ منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار پیدا ہوا؟ کیا اس کا کوئی مطلب نکلا؟ سیدھی بات ہے جب تک ہم اپنے بچوں اور نئی نسل کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھائیںگے، جب تک اس کے تقدس کی حفاظت ہماری نوجوان نسل کرنا نہیں سیکھے گی، تب تک آپ کتنے ہی دن منا لیجیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنی نوجوان نسل کو عورتوں کا احترام کرانے میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنے بچوں کو عورت کا تقدس برقرار رکھنے کی کوشش میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں عورت کو بازار کی چیز نہ سمجھ کر، جسم نہ سمجھ کر، ماں بہن، بیوی، بیٹی بنانے میں اور ہماری یہ ناکامی صرف اور صرف ہماری وجہ سے ہے۔ ہم نے اس نوجوان نسل کو پوری آزادی دی۔ اچھے سے اچھے اسکولوں میں پڑھایا، ان کو انگریزی کی تعلیم دلائی، ان کو ناچ رنگ کی محفلوں میں جانے کی اجازت دی، مگر ہم نے ان کو پہلا درس یہ نہیں دیا کہ تم کو جنم دینے والی عورت بے شک صرف تمہاری ماں ہے، مگر وہ ہر گھر میں ہر سماج میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھایا۔ ہمارا معاشرہ عورت کو اب بھی وہ مقام نہیں دیتا اور صرف ہندوستان میں ہی کیا پوری دنیا میں عورتوں کی حالت خراب ہے، مگر ہم کو پہلے اپنے گھر کو دیکھنا ہے۔ اپنے ملک کو اور اپنے شہر کو دیکھنا ہے اور ہمارے شہر میں حالت یہ ہے کہ پورے ملک میں ہورہی عصمت دری میں سے ہر چوتھا معاملہ دہلی کا ہے۔ 2009 میں تقریباً 460 کے قریب عصمت دری، خواتین کے اغوا وغیرہ کے معاملات سامنے آئے اور 2010 میں 500 کے قریب زنابالجبر کے واقعات ہوئے ہیں۔ 2010 کے اعداد وشمار لیں تو تقریباً 3544 خواتین اغوا ہوئیں، جن میں دہلی کی ہی تقریباً 1389 خواتین ہیں۔ اب آجائیے دہلی پولس کے تازہ اعداد و شمار پر جس کے مطابق ہر 8 گھنٹے میں خواتین کے ساتھ زنابالجبر اور ہر 4 گھنٹے میں چھیڑ چھاڑ کا واقعہ ہوتا ہے۔ دہلی کا اتنا برا حال کیوں ہے؟ دہلی کی خواتین کیا زیادہ خوبصورت ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا زیادہ سیکسی لباس پہنتی ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا دوسرے شہروں کے مقابلے زیادہ دیر رات تک گھر لوٹتی ہیں؟ ان سب کا جواب یہ ہے کہ دہلی سے زیادہ فیشن ممبئی میں ہے، مگر وہاں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دہلی کے مقابلے کم ہیں۔ اس وقت میری خواہش یہی تھی کہ پورے اعداد و شمار دیے جاتے، مگر اعداد و شمار دے کر اپنی قابلیت یا اپنی معلومات کا اظہار کرنے سے بہتر یہی ہے کہ وجوہات کا اندازہ لگایا جائے کہ آخر دہلی ہی سب سے زیادہ اس کی زد میں کیوں ہے؟ جب کہ یہاں کی وزیراعلیٰ خود ایک خاتون ہیں۔ مگر اس بار وہ بھی خاص فکر مند نظر آرہی ہیں اور انہوں نے دہلی کے پولس کمشنر کو اس الزام پر کہ دہلی والوں کا جنس پر الگ رویہ ہے کافی سرزنش بھی کی ہے، مگر شیلا جی سے ہم ہاتھ جوڑ کر التماس کرتے ہیں کہ آپ دہلی میں ہر علاقے ہر محلہ میں موبائل وین لگائیے تاکہ پولس ہوشیار رہے۔ ہفتے اور اتوار کی رات کو رئیس گھر کی بگڑی ہوئی لڑکیاں زیادہ نکلتی ہیں۔ ایسے میں زیادہ پولس فورس اور موبائل وین کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو تو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے، مگر یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بچیوں کو قابل اعتراض لباس زیب تن کرنے سے روکیں۔ وہ لباس جس سے کہ جذبات برانگیختہ ہوں ایسے لباس سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ والدین پر اور خاص کر بھائیوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ کم سے کم اپنی بہنوں کو خود لانے لے جانے کا انتظام کریں۔ جو لڑکیاں رات کو نوکری کر کے واپس آتی ہیں، ان کی حفاظت کا جب تک بھر پور انتظام نہ ہو، ان کو ایسی جگہ نوکری نہ کرنے دیں۔ اگر بحالت مجبوری لڑکیوں کو نوکری کرنی پڑ بھی جائے تو پھر گھر والوں کو اعتماد میں لے کر۔ اگر آفس میں دیر ہوجائے تو وہیں رک جائیں۔ حالانکہ شیلادیکشت کہنے کو تو بہت ہی فکر مند دکھائی دے رہی ہیں، مگر ان کا یہ بیان کہ اگر اس شہر کی لڑکیوں اور خواتین کو محفوظ رہنا ہے تو اول تو گھر سے ہی نہ نکلیں اور اگر نکلیں تو شام ہونے سے پہلے گھر لوٹ جائیں۔ بڑا ہی مضحکہ خیز بیان ہے۔ شیلا جی سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کی تو وہی مثال ہوگئی کہ شہر کی بتیاں گل کرو راجہ جی کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ بھئی پولس کی ناکامی کی وجہ سے پورے شہر پر منحوسیت طاری کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہر لڑکی عیاشی یا اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے کے لیے نہیں نکلتی۔ بہت سے گھر ایسے بھی ہوںگے جہاں کوئی لڑکا نہیں ہوگا۔ بہت سے گھر ایسے ہوںگے جہاں مجبوراً لڑکی کو نوکری کرنی پڑرہی ہوگی۔ ایسے میں صرف اپنے سسٹم کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں صدر خاتون ہیں، ہندوستان کی راجدھانی کی وزیراعلیٰ خاتون ہیں،لوک سبھا اسپیکر خاتون ہیں، سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی چیف منسٹر خاتون ہیں، ریلوے کی وزیر خاتون ہیں۔ یوپی اے کی چیئرپرسن خاتون ہیں۔ اتنی خواتین کے ہوتے ہوئے ہندوستان اور خاص کر دہلی میں عورتوں کے جرائم کا گراف اوپر جانا شرم کی بات ہے۔
ہم لمبی چوڑی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ سنی سنائی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ ہم عملی کام کرنا اور عملی اقدامات پر عمل کرنا جانتے ہیں اور عملی قدم یہی ہے کہ پولس، انتظامیہ، حکومت، ریاستی حکومت سب کو مل کر سوچنا ہوگا۔ اگر پولس کو ہی قابل اعتماد بنا دیا جائے تو یہ بڑی جیت ہوگی، کیوں کہ سب سے زیادہ لااعتبار پولس ہی ہے۔ عوام سب پر بھروسہ کرلیتے ہیں، مگر پولس پر نہیں۔ ہمارے لیے یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ کیسے خواتین کو محفوظ رکھا جائے۔

Monday, 21 March 2011

لیبیا میں مداخلت کی فراق میں امریکہ

وسیم راشد
امریکہ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ لیبیائی باغی کرنل محمد قذافی کی فوج سے کسی بھی شکل میں جیت نہیں پائیں گے، چاہے انہیں امریکی حمایت اور اسلحہ بھی فراہم کر دیا جائے۔ امریکہ انتظار میں ہے کہ باغیوں کی طرف سے ذرا سا مدد کا اشارہ مل جائے تو انہیں امریکی کارگو ہیلی کاپٹروں اور طیارہ بردار جہازوں کے ذریعہ لیبیائی افواج کی سرکوبی کے لیے اسلحہ اور گولا بارود فراہم کر دیا جائے اور دوسری جانب لیبیائی ساحلوں کے پاس موجود امریکی تباہ کن بحری جہازوں پر سوار امریکی میرینز کو بھی لیبیا میں داخل کر دیا جائے، لیکن الشروق اور الیوم السابع سمیت کئی اخبارات و جرائد کا ماننا ہے کہ لیبیائی باغیوں نے امریکہ کی طرف سے اسلحہ اور لاجسٹک حمایت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود اس قابل ہیں کہ وہ خود لیبیا کو قذافی کے پنجے سے آزاد کرا لیں گے او ر اس میں انہیں امریکہ یا کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں ’’اینٹی وار‘‘ کے مدیر اعلیٰ جیس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر شک ہے کہ لیبیائی باغی باوجود کئی شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے اس لائق نہیںکہ سرکاری مسلح فوج کا مقابلہ کر سکیں۔باغی رہنما عبدالحفیظ غوغا کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں اور تحریک میں اتنا حوصلہ ہے کہ ان کو قذافی جیسے حاکم کو معزول کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔لیبیا سے آنے والے مظاہرین کی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین بڑی عمارتوں اور شاہراہوں پر بینرز لگا رہے ہیں، جن پر لکھا ہوا ہے کہ ہمیں غیر ملکی مدد، مداخلت یا اسلحہ کی ضرورت نہیں ہے۔ہم اپنا نظام سنبھالنا اور چلانا جانتے ہیں۔ عرب جریدے دارالحیاۃ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ابھی تک کوئی بڑا معرکہ نہیںہوا ہے، لیکن عرب اور غیر جانبدار ماہرین کا ماننا ہے کہ جب بھی باغیوں اور فوج کے درمیان مقابلہ ہوگا تو باغی فوج کے سامنے ٹک نہیں پائیں گے،کیونکہ تربیت یافتہ فوج کے آگے غیر تربیت یافتہ باغی زیادہ دیر ٹھہر نہیں پائیں گے اس بات سے امریکہ اچھی طرح واقف ہے۔امریکہ کی ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ دبائو کے باوجود مغربی ممالک نے کھل کر عالمی فوج کی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔جبکہ چین، روس، فرانس اور ترکی نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے لیبیائی سرحدوں کے اندر گھس کر ناکہ بندی اور فوجی مداخلت ناقابل عمل ہے اور اگر پھر بھی یہ مداخلت کی گئی تو نتیجہ قذافی کے حق میں امریکہ کے خلاف نکلے گا اور اس طرح پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔ اس کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے لیبیا پر پابندی اور غیر اعلانیہ سمندری ناکہ بندی کا سہارا لیا گیا ہے،تاکہ لیبیائی فوج پر نفسیاتی دبائو بنایا جا سکے۔ عرب اخبارات اور ایرانی میڈیا کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ عدم استحکام کا بنیادی سبب امریکی مداخلت اور اس کی پالیساں ہیں۔
تازہ صورتحال کے مطابق لیبیا میںعالمی فوجی مداخلت کے لیے دوست ممالک کو راضی کرنے میں ناکامی کے بعدکنیڈین اور امریکی بحری جہازوں نے لیبیائی سمندری حدود میں آکر غیر اعلانیہ ناکہ بندی کرلی ہے،لیکن اس ناکہ بندی کے باوجود سرکاری فوج باغیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔مشرقی شہریوں میں جہاں باغیوں کا زور زیادہ ہے لیبیائی فوج اور الخمیس بریگیڈ کے خلاف عوامی طور پربھرتیاں شروع ہو گئی ہیں۔تین روزہ تربیتی سیشن میںباغی عناصر لیبیائی فوج سے باغی افسران کی مدد سے اسلحہ و گولابارود چلانا اور جنگی قوانین کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس قذافی کی حکومت پلٹنے کا بہت کم وقت باقی ہے۔اس لیے امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سرکاری فوج کو نو فلائی زون کی مدد سے معطل کر دیا جائے یا باغیوں کو اسلحہ فراہم کرکے اپنے ایجنٹس لیبیائی باغیوں میں شامل کردئے جائیں لیکن امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ لیبیائی باغیوں کے اہم لیڈروں نے امریکی مدد کی پیشکش کو مسترد کردیاہے جس سے امریکہ کو دھکا لگاہے۔
عرب اخبار الشروق اور خلیج ٹائمز کا مانناہے کہ بن غازی ،البیضاء، سرسا،البریفا اور کئی شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے کاروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے دن ہندوستانی وقت کے 3.30بجے شام کو لیبیائی فوج نے سرسا البریفاکاکنٹرول حاصل کرلیاہے۔ باغی رہنمامحمدیوسف کا کہنا ہے کہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ لیبیائی فوجوں نے گھمسان کی جنگ کی لیکن مختصر سی جنگ کے بعد سرسا کا کنٹرول حاصل کرلیااور باغیوں کو مارکر بھگا دیا اب باغی سرسا سے 75کلومیٹر دور موجود دوسرے باغیوں کے گڑھ شہر اجدابیہ کی جانب رخ کررہے ہیں جہاں شکست خوردہ باغی بھاگ بھاگ کر آر ہے ہیں۔ ا جدابیہ میں موجود شکست خوردہ باغیوں کا کہنا ہے کہ زمینی دستوں کے ساتھ گنشپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیاروں کی مدد سے بہت سرعت سے آپریشن کیاگیا۔ سرکاری فوج اور الخمیس بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ کمانڈوز کا کہناہے کہ جلد ہی دوسرے شہروں میں بھی باغیوں کی سرکوبی کی جائے گی۔ سرکاری افواج کی طرف سے عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ قذافی کی حمایت میں نکل آئیں اور باغیوںکے نام بتادیں تاکہ اس کے بد لے ان کی جان بخشی کردی جائے۔ رائٹرز کے نامہ نگار اورتجزیہ نگار ماریہ گولووینا کا کہناہے کہ اب تک یہی کہاجارہا تھا کہ لیبیائی فوج کی طرف سے کوئی کامیاب کاروائی نہیں کی جارہی ہے لیکن اب سرساشہر کا کنٹرول حاصل کرنے سے ثابت ہورہاہے کہ قذافی کی فوجیں کامیابیوں سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ دوسری طرف غیرملکی نامہ نگاروں نے جو باغیوں کے اہم شہراجدابیہ میں موجود ہیں کہا ہے کہ اب سرکاری فوجوں کی طرف سے اجدابیہ کا نمبرلگنے والاہے جہاں باغیوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ غیرملکی نامہ نگاروں کامانناہے کہ باغیوں کی تعداد بھی بہت کافی ہے اور اسلحہ اور گولا بارود بھی ہے لیکن تربیت اور حوصلے کی کمی کی وجہ سے یہ ناکام ہورہے ہیں اور یہ باغی تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے چاہے انہیں کتنی ہی ٹریننگ حاصل ہوجائے۔ امریکہ اور مغربی میڈیا کی طرف سے مبالغہ آرائی کی جارہی تھی کہ اسلحہ سے لیس باغیوں کی فوج طرابلس کی طرف پیش قدمی کررہی ہے اور سرکاری فوج سے آخری معرکہ طرابلس میں ہی ہوگا۔ اس وقت لیبیا سے ملنے والی الجزیرہ، خلیج ٹائمس، العربیہ اور دوسرے اہم اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا کہناہے کہ باغیوں کی طرف سے طرابلس میں مارچ نہیں بلکہ سرکاری افواج کے ذریعے مشرقی شہروں کا محاصرہ کیاجارہاہے جہاں باغی سرکاری اسلحہ لوٹنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ CIAسے تعلق رکھنے والے ایک سابق افسر رابرٹ ایڈرسن کاکہناہے کہ مشرق وسطیٰ میںموجودہ صورت حال امریکہ کی پیدا کردہ ہے جو اس خطے میں عوامی احتجاج کی لہر کی آڑ میں تیل کے اتنے بڑے ذخائر پر ڈائریکٹ طورپر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں اور لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کی امریکی خواہش کے حوالے سے ترک جریدے ’قلت‘ کا مانناہے کہ بحرہ روم میں اس وقت تین امریکی جہاز موجود ہیں جو لیبیا کا گھیرائو کئے ہوئے ہیں۔ یہ تینوں تباہ کن بیڑے یوایس ایس انٹرپرائز، یوایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس ہیں اور ان تینوں بحری بیڑوں پر ڈھائی ہزار امریکی کمانڈوز اورمیرنیز موجود ہیں اور وہ بحری بیڑوں کے پاس کسی بھی ملک میں مارکرنے کے لئے intercontinantal ایٹمی اور روایتی وار ہیڈز سے لیس میزائیلوں کی کثیر تعداد بھی نصب ہے۔ امریکی ماہرین کا مانناہے کہ نہرسوئیز کے راستے بحر روم میں داخل ہوئے دوتباہ کن طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس کی خاصیت یہ ہے کہ سمندر میں تیرتے تیرے اچانک خشکی پر بھی آسکتے ہیں اور اسی طرح خشکی پر بھی کارروائی کرسکتے ہیں جیسے کہ سمندر میں کرتے ہیں۔
دوسری جانب کرنل قذافی اوران کے صاحبزادے نے امریکہ کے اقدامات اور لیبیاکے تعلق سے امریکی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے اورامریکہ کے رویے کو غیرذمہ دارانہ قرار دیاہے۔ اسکائی نیوزسیٹلائٹ چینل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں سیف الاسلام قذافی کا کہناہے تھا کہ امریکہ کو لیبیا کے معاشرے اور روایات اور تہذیب کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔
لیبیائی اخبارالخبر الجدید نے قذافی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ایک درجن سے زیادہ مستعفی ہونے والے اہم افسروں اور وزیروں کی جگہ نئی تقرری کررہے ہیں۔ لیبیائی اخبار الخبرالجدید کے مطابق مستعفی وزیرقانون عبدالجلیل مصطفی کی جگہ محمدالقموحسنی اور وزیرداخلہ عبدالفتاح یونس کی جگہ عبدالحفیظ مسعود کو مقررکیا گیاہے جب کہ سابق اٹارنی جنرل محمدالعریبی کی جگہ عبدالرحمن العباد کو لایاگیاہے۔

Friday, 11 March 2011

آپ کیوں بار بار پھنس جاتے ہیں سیاسی چالوں میں

وسیم راشد
میرا آج کا عنوان نہ کوئی بہت چونکا دینے والا ہے، نہ حیران کرنے والا اور نہ ہی کسی سیاسی داؤ پیچ میں الجھ کر لکھا گیا ہے۔ بس دل چاہا کہ ایک بار ضرور اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے سوال کروں کہ آخر کیوں بار بار آپ اس سیاسی شعبدے بازی کا شکار ہوجاتے ہیں، کبھی بابری مسجد کے جھگڑے میں، کبھی ہندو یا سنگھ دہشت گردی کے ہیر پھیر میں، کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کسی تنازعہ میں، کبھی فتوے، کبھی جمعیۃ علماء ہند کی آپسی رنجش کے گواہ بننے میں، کیوں آپ ان سب لغویات میں پڑ کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ ملک میں کمر توڑ مہنگائی نے امیر، غریب سبھی کو توڑ دیا ہے۔ بدعنوانی نے ایسا کالا سایہ کیا ہے کہ اب تو کتنے گھوٹالے ہوئے؟ کب ہوئے؟ کتنے کے ہوئے؟ ان کا شمار بھی کرتے کرتے دل گھبرانے لگتا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو بار بار کسی نہ کسی جھگڑے میں الجھا دیا جاتا ہے۔ مسجد النور کا قصہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی کا قصہ شروع ہوگیا اور اس قضیے نے ایسی آگ پکڑی کہ پھر سے امت انہیں خرافات میں الجھ کر رہ گئی۔ مولانا غلام محمد وستانوی گجرات میں سورت کے ایک گاؤں وستان میں پیدا ہوئے، ان کی تعلیم و تربیت بھی وہیں پر ہوئی۔ مولانا وستانوی کوئی معمولی مدرسہ سے فارغ شخص نہیں ہیں، بلکہ ایم بی اے ہیں۔ وہ بے حد کھلے دل و دماغ کے شخص ہیں، جیسا کہ ان کے بارے میں سننے میں آیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد نہ ان کی طرف داری کرنا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف جاری مہم پر اپنی رائے دینی ہے۔ ہم بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ایشیا کی سب سے بڑی دینی درس گاہ مانی جاتی ہے۔ مولانا وستانوی نے جو بھی بیان دیا ہو اور میڈیا نے اس کو کتنا ہی توڑ مروڑ کر ہی پیش کیا ہو تب بھی مولانا طیب اور مولانا مرغوب الرحمن کی مسند پر براجمان ہونے والے شخص کو ہر طرح ذمہ دار ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی طرح کی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔ کیا ہوا کیا نہیں، یہ سب اخباروں میں کئی دن سے لگاتار شائع ہو رہا ہے۔ اب بس یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح سے اس مسئلے کو لیا جائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تنازعہ کو لے کر دو گروپ ہوگئے ہیں، ایک وہ ہے جو اس بات کی شدید مخالفت کر رہا ہے کہ مولانا وستانوی کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ان سے برابر استعفیٰ کی مانگ کر رہا ہے۔ ایک طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں یہ ابوالقاسم بنارسی کو عبوری طور پر کارگزار مہتمم مقرر کرنے کے بعد ایک بڑے گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور تقریباً 36 سال سے قابض گروہ کو اپنا جاہ و جلال خطرے میں نظر آنے لگا، اسی لیے اس طرح کے حالات پیدا کردیے گئے۔ یہ بھی سننے اور پڑھنے میں آرہا ہے کہ قاسمی، غیرقاسمی، شیوخ، غیرشیوخ، گجراتی وغیرہ کی بھی جنگ چھڑ گئی ہے۔ افسوس ہوتا ہے یہ سب پڑھ کر اور سن کر۔ یہ اس نبی کی امت کے لوگ ہیں جن کو بار بار یہ کہا گیا کہ اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے۔ اس امت کے لوگ صرف اپنے فائدے کے لیے ایک بے حد مشہور و معروف اور دینی درسگاہ کے وقار کو داؤ پر لانے سے بھی نہیں چوکے۔ ایک اور شطرنج کی چال بھی لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے اور اس پر بھی کافی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ 10 جنوری 2011 کو دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں مجلس شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپ اپنے اپنے لوگوں کو اس بازی میں جتوانے میں لگے رہے۔ محمود مدنی اور ارشد مدنی کی آپسی مخالفت سے سارا ہندوستان واقف ہے، مگر اس مخالفت کو لوگ اس طرح کیش کریںگے، اس کا اندازہ خود ان دونوں کو بھی شاید نہ ہو، ہاں یہ ضرور کہا جارہا ہے کہ مولانا محمود مدنی یہ چاہتے تھے کہ مولانا ارشد مدنی اس کے مہتمم بن جائیں تاکہ محمود صاحب کے لیے جمعیۃ کا راستہ صاف ہوجائے۔ جہاں تک ہماری ناقص عقل کام کرتی ہے، ہمیں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مولانا وستانوی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی کھیل تو کھیلا جارہا ہے۔ مولانا سے بس اتنی چوک ہوئی کہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیا، لیکن تیرکمان سے نکل چکا تھا۔ اب مولانا وستانوی کتنا ہی کہتے رہیں کہ وہ مودی کے حق میں بیان نہیں دے رہے تھے اور انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ گجرات کے مسلمانوں کو اب آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ مولانا وستانوی کا اصل بیان تو اب شاید سننے کو نہ ملے، کیوں کہ اس قدر اس بیان کے پرخچے اڑائے گئے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے اخبار اتنے بیانات، لیکن ایک بات ہم ضرور کہتے ہیں کہ گجرات کا فساد ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور جس طرح مودی اس نسل کش فساد کا مجرم ہے، اسے بھی کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ مودی اگر پارس کا بھی بن کر آجائے تو مسلمان اس پر یقین نہیں کریںگے، جس طرح اس نے گجرات کے مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہایا اور خود سفید کھدر پوش بنا مسلمانوں جیسی داڑھی اور خط بنا کر بیٹھا ہے، اس سے اس کے دل کی سیاہی نہیں دھل سکتی۔ یہ مسلمانوں کے لیے حساس ایشو ہے، اس ایشو کو چھیڑتے وقت سبھی کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ 23 فروری کو ہونے والی مجلس شوریٰ کی میٹنگ میں کیا فیصلہ آئے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر مولانا وستانوی کو بھی یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ترقی پسندی اور تعلیم الگ چیز ہے اور مذہبی جذبات کا احترام الگ چیز۔ دارالعلوم دیوبند کا مہتمم ہونا الگ بات ہے اور گجرات کے مختلف اداروں کی سربراہی کرنا الگ۔ آپ جس ذمہ دار پوسٹ پر ہیں، اس کے کچھ اصول و ضوابط کو ماننا آپ کا فرض ہے۔ اس ضمن میں نگرپالیکا کے چیئرمین حسیب احمد صدیقی کا بیان بھی قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم کو ایک فل ٹائم مہتمم کی ضرورت ہے۔ ہمیں مولانا وستانوی کی قابلیت اور تعلیم پر کوئی شک نہیں ہے، مگر دیوبند کے مہتمم کو صرف اور صرف مذہبی امور پر ہی اپنا دھیان رکھنا چاہیے۔ اس بیان سے تھوڑا سا اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہنی ضروری ہے کہ بے شک مہتمم کا سارا دھیان مذہبی معاملات پر ہونا چاہیے، مگر اس کو آج کے بدلتے ہوئے منظر نامہ میں ٹیکنیکل و سائنٹفک نظریات بھی رکھنے چاہئیں اور مولانا وستانوی اس لحاظ سے دارالعلوم کے مہتمم بننے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ بے حد پڑھے لکھے قابل اور سائنٹفک نظریات کے حامی ہیں۔ بس نہ جانے کیسے چوک ہوگئی، جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، مہتمم منتخب ہونے کے بعد مولانا وستانوی نے سونیا گاندھی کے خاص مشیر احمد پٹیل سے بھی ملاقات کی تھی۔  اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ملاقات نے بھی کوئی سیاسی رنگ لے لیا ہو اور کچھ لوگوں کو اس پر خطرہ لاحق ہوا ہو۔ میڈیا نے جو کام کرنا تھا کر دکھایا اور آگ میں تیل ڈالنے کا کام خود مولانا وستانوی نے ہی کیاہے۔ یہاں دارالعلوم دیوبند کے طلباء سے بس اتنا کہنا ہے کہ کیا ہوتا ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ کس کی سیاست ہے؟ کیسی سیاست ہے؟ انہیں اس میں نہیں پڑنا چاہیے۔ انہیں بس اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ ان کا جو کام ہے، وہ اہل سیاست جانیں۔ طلبا کیوں اس لڑائی میں کود گئے۔ انہیں تو ابھی اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ اس بات کا پتہ لگا سکیں کہ کیا کھیل رچا جارہا ہے۔ ہم مسلمان بھی بے حد جذباتیت سے کام لیتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے کسی نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں اور ہماری اس جذباتیت کا فائدہ موقع پرست لوگ اٹھا لے جاتے ہیں۔ ایک بات اور ہے۔ اسلام معافی کو پسند کرتا ہے۔ مولانا وستانوی نے اگر معافی مانگ لی ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کے انٹرویو کو غلط کوٹ کیا گیا ہے تو اس معافی کو کھلے دل سے قبول کرکے ایک کھلے دل و دماغ اور تعلیم یافتہ شخص کو ایک موقع اور دینا چاہیے اور گجرات کے فساد کا ماتم نہ کر کے اب واقعی آگے نکلنے کی ضرورت ہے۔ نریندر مودی کو معاف نہ کیجیے بالکل معاف نہ کیجیے بلکہ اس کے لیے دل میں نفرت ہی رکھ کر آگے بڑھیے اور اس نفرت کو اپنی تعلیم و تربیت سے اس طرح نکھاریے کہ آپ کسی ایسی جگہ، کسی ایسی پوسٹ یا کسی ایسے ادارے میں پہنچ جائیں کہ آپ اس گجرات فساد کے شکار لوگوں کی مدد بھی کرسکیں اور ان کی بازآبادکاری کا کام بھی۔

بہن جی! یہ کیا ہو رہا ہے؟

وسیم راشد
کہتے ہیں ایک خاتو ن کے احساسات و جذبات اور مسائل کو ایک خاتون ہی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے، لیکن اترپردیش میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ یہاں ایک خاتون کا راج ہے اور اس کے راج میں صوبے کی خواتین ہی محفوظ نہیں ہیں۔آئے دن خواتین کی عصمت دری ہونا اس صوبے کا گویا معمول سا بن گیا ہے۔سونے پر سہاگا یہ کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ یعنی مایاوتی بھی دلت طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور عصمت دری کی شکار بیشتر خواتین کا تعلق بھی دلت طبقے سے ہی ہے۔ یعنی مایاوتی اپنے راج میں اس طبقے کی بھی حفاظت نہیں کر پا رہی ہیں، جو طبقہ انہیں کسی مسیحا سے کم نہیں سمجھتا۔دلتوں نے مایاوتی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھانے میں کلیدی رو ل ادا کیا تھا۔یہ بات مایا وتی بھی اچھی طرح جانتی ہیں، لیکن مایاوتی اقتدار کے نشے میں اس قدر چور ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کی بھلائی کے لیے تو کیا اپنے طبقے کے لوگوں کے لیے بھی کچھ نہیں کر رہی ہیں۔وہ شاید اس بھول میں مبتلا ہیں کہ میں ترقیاتی کام کروں یا نہ کروں اتر پر دیش سے مجھے کوئی نہیں اکھاڑ سکتا۔ انہیں بہار کو نہیں بھولنا چاہئے، جہاں15برسوں تک لوگ لالو اور رابڑی پربھروسہ کرتے رہے اور لالو ان کے اس بھروسے کو محض نادانی سمجھتے رہے۔بالآخر وہی ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔لالو اور رابڑی کو بہار کے عوام نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ صرف بے دخل ہی نہیں کیا بلکہ 2010کے اسمبلی انتخابات میں تو انہیں اپوزیشن میں بیٹھنے لائق بھی نہیں چھوڑا۔
مایاوتی کو بہار کی تبدیلی کو قطعی نہیں بھولنا چاہئے، اگر وہ یہ بھول کر بیٹھیں جیسا کہ کر رہی  ہیں تو ان کا بھی لالو اور پاسوان جیسا حشر ہونا یقینی ہے۔ مایاوتی پر یو پی کے عوام نے لالو سے بھی زیادہ بھروسہ کیا ، انہیں اتنی اکثریت سے اقتدار کی چابی سونپی کہ دوسری کوئی پارٹی ان کے آس پاس بھی نہیں ٹکی۔عوام نے ان پر اتنا بڑا بھروسہ اس لیے کیا تھا کہ دوسری کوئی پارٹی ان کے راستے کا کانٹا نہ بن سکے اور مایاوتی بے فکر ہو کر ترقیاتی کام انجام دے سکیں، تاہم مایاوتی نے عوام کی امیدوں کو چکناچور کر دیا اور انہیں ملائم سنگھ سے بھی زیادہ ٹھگتی چلی گئیں۔یو پی میں ترقیاتی کام تو بالکل نہیں ہوئے البتہ جرائم کا گراف ضرور تیزی سے بڑھتا چلا گیا۔ بالخصوص خواتین کی عصمت دری کا گراف خاصا بلند ہو گیا۔آج یو پی کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر کی بدحالی نے یو پی کے عوام کی آنکھوں سے نیند چھین لی ہے۔ لڑکیاں نہ دیہی علاقوں میں محفوظ ہیں اور نہ شہروں میں۔ رات کو گھروں سے باہر نکلنا ان کے لیے محال ہو گیا ہے۔غور طلب ہے کہ دیہی علاقوں میں آج بھی بیشتر لوگ حاجت سے فراغت کے لیے جنگلوں میں جاتے ہیں اور خواتین بھی جنگلوں میں ہی جاتی ہیں۔ اب انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی درندے کی ہوس کا شکار نہ بن جائیں ۔
صوبے میں عصمت دری کی وارداتیں ہر روز ہی ہو رہی ہیں۔ اخبارات ان وارداتوں سے بھرے پڑے رہتے ہیں، نیوز چینل چیخ چیخ کر مایاوتی کے ناقص قانونی نظام کا رونا روتے ہیں، لیکن مایاوتی کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ ان میں سے بیشتر وارداتوں میں رسوخ والوں اور ان کے رشتے داروں کا تعلق ہوتاہے، جن کی انگلیوں پر پولس کٹھ پتلی کی طرح ناچتی ہے۔لکھنؤ کے فتح پورمیں رونما ہونے والے واقعہ کو یاد کرکے صوبے کی خواتین کانپ اٹھتی ہیں، بالخصوص طالبات کے لیے یہ واقعہ ایک نیا خوف بن کر آیا ہے۔واضح ہو کہ لکھنؤ کے فتح پور میں بیتی7فروری کو کچھ وحشی درندوں نے ایک دلت نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی کوشش کی۔اپنی اس وحشی کوشش میں ناکامی کے بعد انھوں نے لڑکی کے ہاتھ، پیر اور ناک کان کاٹ ڈالے۔ ایسی بے شمار دلت خواتین یا لڑکیاں ہیں جووحشی درندوں کا شکار ہو رہی ہیں اور پولس و انتظامیہ کچھ نہیں کر پاتی۔ مایاوتی اترپردیش کے عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ شاید وہ یہ نہیں جانتیں کہ جب عوام بدلہ لیتے ہیں تو بے حساب لیتے ہیں۔پھر ان کے آگے اچھے اچھے لیڈر کچھ نہیں کر پاتے بلکہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے نظر آتے ہیں۔کم از کم انہیں عرب ممالک سے تو سبق لینا ہی چاہئے۔ عرب میں بغات کی یہ آگ صرف اس لیے بھڑکی کیونکہ، عوام اپنے حکمرانوں سے تنگ آ چکے تھے۔ مہنگائی، فاقہ کشی، مفلسی،بدعنوانی اور ناقص لاء اینڈ آرڈر ان ممالک میں انتہا کو پہنچ گیا تھا۔اس لیے وہاں کے عوام نے اس نظام کو ہی بدلنے کی ٹھان لی جو ان سب مسائل کے لیے ذمہ دار تھا۔مایاوتی کی ریاست میں بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ پولس جہاں لیڈروں کی انگلیوں پر ناچ رہی ہے وہیں بڑے افسران مایاوتی کے سینڈل چمکانے میں مصروف ہیں۔ لو گ بھوک سے تڑپ کر مر رہے ہیں، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔پرواہ ہوگی بھی کیوں؟انہیں تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیشہ بہن جی ہی اقتدار میں رہیں گی اور جب بہن جی اقتدار میں رہیںگی تو ان کے چمچوں پر بھلا کیونکر کوئی آفت آسکتی ہے؟ یہی سوچ کر افسران بہن جی کے سینڈل چمکا رہے ہیں اورپارٹی کے ایم ایل اے خواتین کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ ایم ایل اے پرشوتم نریش دویدی کے فعل کو کون بھول سکتا ہے، جس نے ایک دلت لڑکی کی عصمت دری کرکے اس کی زندگی کی تمام خوشیاں چھین لیں، پل بھر میں اسے سماج کی نظروں کا کانٹا بنا دیا، لیکن داد دینی ہوگی اس لڑکی کی ہمت کی جس نے ایک ایم ایل اے کو سزا دلانے کی ٹھانی ہے۔ وہ دویدی کوسماج کے لیے ایک عبرت بنا دینا چاہتی ہے، لیکن عبرت تو وہ تب بنیں گے جب گواہوں کو نہیں خریدیں گے، ثبوتوں کو مٹانے کے لیے موٹی رقم نہیں دیں گے، پولس و افسران ان کے اشاروں پر نہیں ناچیں گے، انہیں سیاسی حمایت نہیں ملے گی،جوکہ ایک ناممکن سی بات لگ رہی ہے۔ سیاستداں تو ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ غریبوں کا خون چوسیں، ان کی لڑکیوں کی عصمت دری کریں، غریبوں کو ستائیں اور مظلوموں پر مزید ظلم کریں۔
غلطی ان لیڈروں کی بھی نہیں ہے۔ دراصل ہمارا پورا نظام ہی سڑ چکا ہے، اگر کوئی لیڈر اسمبلی الیکشن لڑتا ہے تو اس کے کئی لاکھ روپے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ یہا ں تک کہ چھوٹے سے گائوں کا ایک پردھانی کا امیدوار بھی لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے۔ اتنی موٹی رقم جب ان لوگوں کی الیکشن لڑنے میں خرچ ہوجاتی ہے تو اس کی بھرپائی تو انہیںکہیں سے کرنی ہی پڑے گی۔ اس لیے یہ لوگ جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں اور جائز و ناجائز طریقے سے خوب دولت کماتے ہیں۔ اول تو ٹکٹ بھی ان لوگوں کو ہی دیا جاتا ہے جو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں،جن کے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے اور جو سماج میں اپنا دبدبہ رکھتے ہیں۔ دبدبہ اپنی صلاحیتوں، ایمانداری یاسماج کے لیے کیے گئے فلاحی کاموں کی وجہ سے نہیں بلکہ دادا گیری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار ،قتل و غارتگری اور ان جیسے کئی دوسرے پیشوں کی وجہ سے۔ دولت کمانے کے چکر میں پھر انہیں کوئی کام غیر قانونی یا ناجائز نہیں لگتا، انہیں صرف اور صرف دولت چاہئے اس کا ذریعہ کیسا بھی ہو؟دولت ایسی چیز ہے جو بیشتر لوگوں سے برداشت کا مادہ چھین لیتی ہے،دلوں سے رحم ختم کردیتی ہے اور جائز و ناجائز کی تمیز بھلا دیتی ہے۔مایا وتی کی ریاست میں ایسے لیڈروں و افسران کی بھر مار ہے ، جو جائز و ناجائز میں تمیز کرنا بھول گئے ہیں۔ وقت رہتے اگر مایاوتی نے اپنی غلطیاں قبول نہیں کیںاور ان میں اصلاح نہیں کی تو عوام ان کا حشر بھی لالو جیسا ہی کریں گے۔

ہندوپاک دوستی کے نام: بوئے گل ایک سی ہے بوئے وفا ایک سی ہے

وسیم راشد
گزشتہ ہفتے پوری کوشش کی کہ اخبار کے شائع ہونے سے پہلے پاکستان کے سفر اور وہاں کی صورت حال پر لکھ کر کچھ بھیج سکوں، مگر چونکہ سفر میں تھی، اس لیے ممکن نہ ہوسکا۔ کراچی سے واپسی کے بعد اس قدر ہنگامے اور پروگراموں نے گھیر لیا کہ کچھ نہ پوچھو۔ فیض صدی تقریبات منائی جارہی ہیں، جس کا ہرطرف شور ہے۔ پاکستان میں راحت سعید صاحب جو کہ پوری دنیا میں منعقد ہونے والی فیض صدی تقریبات کو کراچی سے ہی کوآرڈینیٹ کر رہے ہیں، سے نہایت ہی خوشگوار ملاقات رہی۔ راحت سعید بے حد زندہ دل اور پر مزاح شخص ہیں۔ اعلیٰ درجہ کا ان کا مزاح بے حد لطف دیتا ہے۔ مجھ سے ایسے ملے جیسے کہ کوئی برسوں کے بچھڑے اپنے دوست سے ملتا ہے۔ ایک بے لوث بے غرض شخص جو نہایت مصروفیت کے باوجود میری طرف پوری طرح متوجہ رہا اور وہاں کے مشہور شاعر سحر انصاری کو اپنے گھر بلا کر ایک انٹرویو بھی کر ا دیا۔ راحت سعید صاحب سے پاکستان کی سیاسی، سماجی، ادبی سرگرمیوں پر کافی بات چیت ہوئی۔ ان کی بیگم بھی نہایت ملنسار اور خوش شکل تھیں۔ پہلے تو مجھ سے رسمی گفتگو کرتی رہیں اور بس ایسے نبھاتی رہیں جیسے کہ کوئی شوہر کے دوستوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی نبھاتا ہے، لیکن جیسے ہی ان کو پتہ چلا کہ میں پرانی دہلی سے تعلق رکھتی ہوں اور میری نسلیں پشتیں بھی دہلی کی ہی ہیں، تووہ ایک دم آبدیدہ ہوگئیں اور مجھ کو لپٹا کر بولیں پرانی دہلی میں کٹرہ بابر بیگ میرے نانا کے نام پر ہے اور مجھے وہ کٹرہ دیکھنے کا بے حد شوق ہے۔ تم نے وہ کٹرہ دیکھا ہے؟ میں نے ان کی محبت کو اپنے سینے میں جذب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسی جگہ کی ہوں۔ انہی گلی کوچوں میں میرابچپن بیتا ہے تو وہ بے حد خوش ہوئیں اور شاید اسی تعلق کی بنا پر انہوں نے مجھے کھانا بھی کھلایا اور چلتے وقت ایک خوبصورت سا تحفہ بھی دیا۔ راحت سعید صاحب نے مسکرا کر بیگم پر طنز کیا کہ بھئی تم نے تو ہماری دوست کو اپنا کرلیا۔ ان کی بیگم کو میں نے دہلی آنے کی دعوت دی اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کو ان کے نانا کا کٹرہ ضرور دکھاؤںگی۔ کراچی میں یوں تو ان دنوں امن و امان تھا۔ میں اپنے پہلے اداریہ میں یہ لکھ چکی ہوں کہ وہاں یوں تو نظم و نسق کی حالت بہت بہتر نہیں ہے، مگر کچھ چیزوں میں مجھے بہتری نظر آئی اور وہ ایک ترقی پذیر ملک کے لیے یقینا خوش آئند ہے کہ وہاں تعلیم کا رجحان پہلے سے زیادہ بڑھا ہے۔ جہاں ایک طرف نوجوان نسل بے یقینی کی کیفیت میں جی رہی ہے، وہیں وہ تعلیم کی طرف بھی قدم بڑھا رہی ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیاں بے تکلفی اور بے فکری سے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں صرف وہاں چند منٹوں کے لیے ہی گئی تھی، وہ بھی ہمارے ایک کرم فرما تھے جو میری شدید مصروفیت کے باوجود میری خواہش پر مجھے وہاں لے گئے۔ وہاں جا کر وہاں کا ماحول دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ خواہش تو تھی کہ وہاں کے مختلف شعبوں میں جا کر صدر شعبہ سے ملاقات کروں، مگر پھر لگا کہ جہاں جانا ہے، وہاں پہنچنے میں تاخیر نہ ہوجائے، اس لیے اس خواہش کو دل ہی میں رکھ کر چند منٹوں کے لیے گھومتی رہی۔ 5 سال قبل بھی میں اس یونیورسٹی میں آئی تھی، اب 5 سال بعد مجھے زبردست تبدیلی نظر آئی۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی دھن میں مست خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ اپنے شعبوں کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ دل سے بے اختیار یہی دعا نکلی کہ خدا کرے ان سبھی کو ان کی منزل مل جائے۔ ایک اور تبدیلی مجھے کراچی میں نظر آئی، وہ یہ کہ پہلے صرف پاش کالونیوں جیسے ڈیفنس، گلشن اقبال، گلشن معمار وغیرہ میں ہی خواتین کار چلاتی نظر آتی تھیں، مگر اس بار ناظم آباد، عزیز آباد، لیاقت آباد میں بھی گلی کوچوں میں نوجوان لڑکیاں بھی اسٹیرنگ سنبھالے نظر آئیںا ور عمر دراز خواتین بھی۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایئر پورٹ سے شہر کو جوڑتی ہوئی بے حد شاندار سڑک بھی پہلی بار اتنی کشادہ اور صاف ستھری لگی۔ باہر سے آنے والوں کے لیے جو انٹری ہوتی ہے، اس کا آفس بھی ایئرپورٹ سے تھوڑی دور بنا دیا گیا ہے، جس سے ایک فائدہ ان کو تو ضرور ہے جو فلائٹ سے جاتے ہیں، مگر ریل سے جانے والوں کے لیے وہ بہت دور پڑتا ہے۔ وہاں کے عملہ اور وہاں کے ایس پی آغاصاحب سے میں کافی متاثر ہوئی۔ میری انٹری جاتے ہوئے بھی اور واپسی میں بھی جھٹ پٹ ہوگئی۔ آغا صاحب نے مجھے بیٹھا دیکھا تو خود ہی بلا کر بات چیت شروع کردی اور بہت کچھ ہندوستان کے بارے میں پوچھتے رہے ۔ کراچی میں جس طرف چلے جائیے ’’شادی ہال‘‘ کی بھرمار ہے۔ ہر سڑک پر جگمگاتے خوبصورت شادی ہال اس قدر حسین لگتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیے۔ مجھے ایسا لگا کہ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے میں ان شادی ہالوں کی جگمگاہٹ بھی اہم رول ادا کرتی ہے۔ پوری کراچی میں ہر سڑک پر گہما گہمی اور کھانے پینے کی دکانیں عجب بہار دکھاتی ہیں۔ کراچی میں ہر بچہ، بوڑھا، عورت مرد کراچی شہر کے میئر مصطفی کمال کے بارے میں بات کرتا نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، وہ ان ہی کی بدولت ہے۔ ان سبھی کا کہنا ہے کہ کراچی کو میگا سٹی بنانے میں مصطفی کمال نے اہم رول ادا کیا ہے۔ مصطفی کمال متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھتے ہیں، جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد سندھ کی تیسری بڑی پارٹی مانی جاتی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی کراچی شہر کو میگا سٹی بنانے پر مصطفی کمال کو مبارک باد دی ہے۔ کراچی شہر میں اب بھی ترقیاتی کام چل رہے ہیں اور کافی کچھ بہتری آئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہندوستان پاکستان دونوں ہی ممالک میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ دونوں ہی ممالک ایک جیسی پریشانیوں سے نبردآزما ہیں۔ بجلی، پانی، تعلیم، بے روزگاری، مہنگائی یہ سب دونوں ہی ملکوں کے عوام جھیل رہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی بڑے بڑے شہروں میں بجلی، پانی کی سہولتیں اب بھی اتنی بہتر نہیں ہیں، اسی طرح گاؤں کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ پاکستان میں بھی عوام مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔ گوشت 470 روپے کلو، چینی 120 روپے کلو، سبزیاں آلو پیاز بے حد مہنگی ہیں۔ دودھ، دہی غرضیکہ ضروریات زندگی کی سبھی اشیاء مہنگی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہندوستان میں مہنگائی کے خلاف سبھی پارٹیوں کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے، حالانکہ ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا، مگر شروعات تو ہوئی۔ کراچی میں دن میں دو بار لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، مگر وقت طے ہے اور اس طے شدہ وقت سے نہ 2 منٹ پہلے اور نہ ہی 2 منٹ بعد، مقررہ وقت پر بجلی جاتی ہے اور مقررہ وقت پر آجاتی ہے۔ وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے دن میں کسی بھی وقت بجلی چلی جاتی تھی، مگر اب طے شدہ وقت پر ہی جاتی ہے۔ کراچی میں یوں تو جنگ سب سے بڑا اخبار مانا جاتا ہے، مگر اب اے آر وائی گروپ کے ذریعے نکالے جانے والے اخبار کا بھی لوگوں کو شدت سے انتظار ہے، کیوں کہ جنگ کے سابق چیف ایڈیٹر محمود شام صاحب اس اخبار سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ جنگ پاکستان کا سب سے زیادہ چھپنے والا اخبار ہے۔ اس کی روزانہ اشاعت تقریباً 8 لاکھ ہے۔ یہ اخبار میر خلیل الرحمن نے 1940 میں دہلی سے شروع کیا۔ اس وقت اس اخبار کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنا اور مسلم لیگ کی ترجمانی کرنا تھا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد کراچی کو دارالحکومت بنایا گیا، جہاں ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ بندرگاہ کی بھی سہولت تھی۔ کراچی ایک ابھرتا ہوا صنعتی شہر تھا۔ دہلی کے تین مسلم اخباروں روزنامہ ڈان، جنگ اور انجام نے آزادی کے بعد اپنے دفاتر کراچی منتقل کیے۔ آج ڈان اور جنگ کراچی کے سب سے بڑے اخبار مانے جاتے ہیں۔ میر خلیل الرحمن کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے میر شکیل الرحمن اخبار کے مالک ہیں اور محمود شام ایڈیٹر تھے، مگر اب انہوں نے اے آر وائی جوائن کرلیا ہے، جو کہ حاجی عبدالرزاق یعقوب کا گروپ ہے اور پاکستان میں بے شمار کمپنیاں، چینل اور ادارے اس گروپ کے تحت آتے ہیں۔ محمود شام صاحب نے ایک لنچ میرے اعزاز میں رکھا تھا، جس میں انہوں نے کراچی سے نکلنے والے سبھی اخباروں کے مدیر اور سینئر رپورٹرز سے میری ملاقات کرائی۔ ہمابخاری جو وہاں کے میڈیا کی جانی مانی شخصیت ہیں اور نیوپورٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی، انہوں نے سندھی چادر جس کو اجرک کہا جاتا ہے، اڑھا کر میری عزت افزائی کی۔ سبھی بے حد محبت اور خلوص سے پیش آئے۔ پرلطف گفتگو کے درمیان کھانا کھایا گیا، جس میں سبھی نے مجھ سے ہندوستان کے بارے میں مختلف سوالات کیے۔ یوں سمجھئے کہ میرا پورا انٹرویو لے ڈالا۔ اس کے بعد ایک شعری نشست کا اہتمام ہوا، جس میں مجھ کو بھی شعر پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ کئی چینلز کے لیے انٹرویوز ہوئے، سبھی لوگ بے حد محبت اور احترام سے بات کر رہے تھے۔ سبھی کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ مجھ ناچیز کو ہندوستان کی اردو اخبار کی پہلی خاتون مدیرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجھے خود ہی یہ پتہ نہیں تھا، مگر دہلی میں، دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اخترالواسع نے ہمیشہ ادبی اور سیاسی محفلوں میں میرا تعارف یہی کہہ کر کرایا۔ محمود شام صاحب نے کراچی آرٹس کونسل میں بھی ایک پروگرام رکھا تھا، جس میں ان ہی کے ساتھ میں شرکت کے لیے گئی۔ چاروں طرف مخلص اور محبت بھرے چہرے تھے۔ سبھی اپنے تھے کچھ بھی تو پرایا نہ تھا۔ شکل و صورت، رنگ، قد، لباس، بولنے کا انداز سبھی کچھ ہندوستانیوں جیسا۔ وہی پرتپاک استقبال، وہی خوبصورت کلمات، اخبار کی تعریف، ہندوستانیوں کے لیے محبت کا بے پناہ اظہار۔ اس سب نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ بے شمار تحائف دئے گئے، جس میں کتابوں کے تحائف بہت تھے، مگر مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ وزن کی وجہ سے بے حد اہم خوبصورت یہ کتابیں مجھے چھوڑ کر آنا پڑیں۔ محمود شام صاحب نے اپنی کتابوں کا پورا سیٹ مجھے دیا تھا، جو میں شدت سے لانا چاہ رہی تھی۔ اس میں سے 4 کتابیں ہی میں لا ئی۔فیض صدی تقریبات کے سلسلے کا پہلا مشاعرہ پڑھنے کا مجھے اعزاز حاصل ہوا۔  آج یہ اداریہ قلم بند کرتے ہوئے مجھے وہ بے حد مخلص اور پیارے لوگ یاد آرہے ہیں، جنہوں نے مجھ کو بے پناہ عزت و پیار دیا۔ علی سردار جعفری کی نظم مشرق و مغرب کا ایک شعر مجھے یاد آرہا ہے :
بوئے گل ایک سی ہے بوئے وفا ایک سی ہے
تیری اور میری غزلوں کی ادا ایک سی ہے
حقیقت میں سب کچھ ایک جیسا ہے۔ بس یہ سرحد، یہ ایک سفید لکیر نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ سبھی اپنے عزیز و اقارب سے مل پاتے اور ادبی، سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر ہم ایک دوسرے سے استفادہ کرتے۔ ویزا کا مسئلہ نہ ہو یا ویزا میں نرمی ہو تو شاید یہ دکھ، یہ درد اور یہ کرب بھی ہندو پاک کے عوام میں نظر نہ آئے۔
میری دعا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ دونوں ملکوں کے حالات بہتر ہوں اور دونوں ہی ملک ترقی کی راہ پر ساتھ ساتھ گامزن رہیں۔ اب بھی فیض صدی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان سے ایک پورا وفد ہندوستان آیا تھا، جس میں راحت سعید، کشور ناہید، زہرہ نگاہ، فیض کی دونوں بیٹیاں سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی، امداد آکاش، یوسف سندھی وغیرہ شامل تھے اور ایسا شخص جس نے فیضؔ کے ساتھ راولپنڈی سازش کیس میں وقت گزارا تھاظفراللہ پوشنی ہمارے درمیان تھا۔ بہت اچھا لگ رہا تھا سب سے مل کر۔ خدا سے یہی دعا ہے کہ دونوں ممالک کی یہ آپسی یگانگت، محبت، رواداری اور خلوص قائم رہے۔ اپنے اپنوں سے ملتے رہیں، امن کی آشا برقرار رہے۔